BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 November, 2007, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش
نواز شریف (فائل فوٹو)
نواز شریف نے بینظیر بھٹو سے کہا ہے کہ وہ ان ’وعدوں‘ کے بارے میں انہیں اعتماد میں لیں
نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں بینظیر بھٹو کے ساتھ مصالحت اور مل کر جنرل مشرف کے اقتدار کے خلاف جدوجہد کرنے کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ خط بی بی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اے پی سی کی ’خواہش‘ کے جواب میں لکھا۔

میاں نواز شریف نے بینظیر بھٹو کو پیشکش کی ہے کہ ان کی پاکستان مسلم لیگ اور اے پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں ان کا ساتھ دینےکو تیار ہو سکتی ہیں بشرطیکہ بینظیر بھٹو چار نکات پر آمادگی ظاہر کریں۔ ان چار نکات میں آئین کی بحالی، ایمرجنسی کا خاتمہ، آزادانہ انتخابات، الیکشن کمیشن کا قیام اور ذرائع ابلاغ کی آزادی جیسے نکات شامل ہیں۔

اس حوالے سے جب پیپلز پارٹی کی قیادت سے اس خط پر رد عمل جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا انہیں فی الحال خط وصول نہیں ہوا اور خط ملنے کے بعد ہی بینظیر بھٹو اپنا جوب دے سکیں گی۔

نواز شریف نے اپنے خط میں بینظیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ نے صدر مشرف کی طرف سے وعدے پورے نہ کیے جانے کی صورت میں تیرہ نومبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے‘۔ نواز شریف نے بینظیر سے کہا کہ وہ ان ’وعدوں‘ کے بارے میں انہیں اعتماد میں لیں۔

ہم پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف ایک جمہوری جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ اگر اب ہم سب مل کر ساتھ چلنے کا فیصلہ کر رہے ہیں تو اس سے بہتری کی امید کرنی چاہیے
نواز شریف

جدہ سے بی بی سی اردو سروس کے شاہ زیب جیلانی سے بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا: ’بینظیر بھٹو نے اب اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہیں اور پاکستان میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد دیکھنا چاہتی ہیں۔ ہم پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف ایک جمہوری جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ اگر اب ہم سب مل کر ساتھ چلنے کا فیصلہ کر رہے ہیں تو اس سے بہتری کی امید کرنی چاہیے‘۔

جنرل پرویز مشرف کے خلاف مہم میں بینظیر کی قیادت میں تحریک چلانے کے امکان کے بارے میں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا: ’کون آگے اور کون پیچھے والی بات نہیں ہے۔ یہ پاکستان کا معاملہ ہے۔ کسی کو بھی اپنی ذات کو آگے نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ اگر ذات ہے تو پھر خدانخواستہ پاکستان نہیں ہے‘۔

بینظیر بھٹو پر اعتماد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص نے اپنی ذات کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایسے میں ہم ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کریں گے تو پھر کیا کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں بھی ایک دوسرے پر اعتبار کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کا معاملہ ہے‘۔

لندن میں اے پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت بینظیر کے ایم ایم اے کے ساتھ نہ بیٹھنے کے بارے میں ایک سوال پر میاں نواز شریف کا کہنا تھا: ’اگر بینظیر آل پارٹیز کانفرنس کی بات کر رہی ہیں تو پھر تو آل پارٹیز کانفرنس میں ایم ایم اے اور دیگر مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اگر وہ چاہتی ہیں کہ اس کا اجلاس ہو تو پھر سب کے ساتھ ہی بیٹھنا پڑے گا‘۔

’بے ثمر احتجاج‘
اے پی ڈی ایم کا اعلان ناکامی کا اعتراف ہے
نواز شریفنواز شریف استقبال
پارٹی کی اعلٰی قیادت فلاپ شو کی ذمہ دار ہے؟
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
اسی بارے میں
حکومت کب تک روکےگی: بینظیر
09 November, 2007 | پاکستان
صدر کی پیشکش مبہم ہے: بینظیر
08 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد