| | جمعہ کو بینظیر نے لیاقت باغ میں ریلی کی کال دی تھی |
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ جب تک ایمرجنسی جاری رہے گی وہ بار بار جلسے کی کال دیں گی۔ انہوں نے کہا: ’حکومت کب تک مجھے روکے گی۔‘ بے نظیر بھٹو نے ان خیالات کا اظہار بی بی سی کے نامہ نگار شفی نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنہیں کسی قسم کے گرفتاری کے آرڈر نہیں دکھائے گئے، اس کے باوجود اُنہیں اسلام آباد کے گھر سے باہر نہیں جانے دیا جا رہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہاں اسلام آباد میں صرف اسلام آباد کی پولیس ہی نہیں ہے بلکہ پنجاب پولیس کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ ’اور میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ پنجاب پولیس کے ہی لوگ ہیں یا اُنہیں پرائیوٹ طور پر لایا گیا ہے اور وردی پہنا دی گئی ہے۔‘ بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں اُن کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کی گئی اور آنسو گیس پھینکی گئی، اس کے علاوہ پشاور اور کشمیر میں لاٹھی چارج کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن گرفتار ہیں اور پورا پاکستان خاص طور پر شمالی پاکستان بالکل بند ہوا پڑا ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ اُن کی جماعت کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ایک جلسے سے پورا ملک بند ہے۔ ’آج ہم نے ایک جلسے کی کال دی ہے، ہم پھر جلسے کی کال دیں گے۔‘ ایک سوال کے جواب میں بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت نے جنرل مشرف کو یہ موقع دیا تھا کہ پرامن اور سیاسی طریقے سے جمہوریت کو ملک کے اندر بحال کیا جائے لیکن مجھے افسوس ہے ہم جس راستے پر چلتے ہوئے جمہوریت کی بحالی چاہتے تھے اس راستے کو آئین کے ساتھ معطل کر دیا گیا۔ اس سے قبل آج بےنظیر بھٹو کو اسلام آباد میں ان کی رہائش پر محصور کرنے کی پولیس ناکام رہی اور بے نظیر کی گاڑی نے پولیس کی طرف سے گھڑی کی گئی چند رکاوٹیں عبور کر کے باہر آگئی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کان دھریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ دہشت گرد اسلام آباد آ کر کارروائیاں کریں اور پاکستان کا حشر بھی عراق جیسا ہو جائے۔ |