BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 November, 2007, 13:39 GMT 18:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی سی او اور مشرف کے مقاصد

مظاہرین پر تشدد
مشرف پہلی مرتبہ اپنے پیش رو جنرل ضیا الحق کے روپ میں نظر آئے ہیں
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کی وجوہات جو بھی پیش کیں وہ اپنی جگہ لیکن حکومتی اقدامات سے اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد عدلیہ کو انگوٹھے تلے رکھنا اور میڈیا کو نکیل ڈالنا ہی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت جرنیلی فرمان کے خلاف ضمیر کی آواز پر علمِ بلند کرنے والےان تمام ججوں کا محاصرہ ہے، حقہ پانی بند ہے، ان ججوں کے بچوں کو امتحان دینے کی اجازت نہیں، ٹیلی فون اور دیگر سہولیات سے محروم کیا گیا ہے جبکہ بندوق برداروں کے حامی ججوں کے گھروں پر ڈش لگا کر دینے سمیت ہر سہولت فراہم کی جا رہی ہے جس کے وہ خواہاں ہیں۔

دوسری طرف پانچ روز سے پاکستان میں ملکی و غیر ملکی خبر رساں نجی ٹی وی چینلز کی نشریات منقطع ہے، صحافیوں اور اخبارات کے مالکان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف زبان بند کی جائے ، ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے لیے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں، کراچی کے بعض صحافیوں پر ان پابندیوں کے خلاف احتجاج کے جرم میں ڈکیتی، بلوہ ، پولیس سے محاذ آرائی اور اقدام قتل جیسے مقدمات قائم کرکے سابق فوجی صدر ضیاءالحق کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

ججوں کے لیے ڈش اینٹیا
 حکومت کے حامی ججوں کے گھروں پر ڈش اینٹیا لگائے جا رہے ہیں جبکہ مخالف ججوں کے گھروں کے باہر کڑے پہرے

حزب مخالف کے رہنما جنرل مشرف پر الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لیے ایمرجنسی نافذ کی ہے تاکہ وہ آرمی چیف اور صدر کے عہدے رکھ سکیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو تادم تحریر پانچ روز میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرنے والے خطاب، سفیروں سے بات چیت، شریعت کورٹ کے ججوں کو حلف دینے سمیت جو بھی عوامی تقریبات ہوئیں ان میں کسی ایک میں بھی جنرل مشرف باوردی نظر نہیں آئے۔

اس بارے میں کچھ صحافیوں کا خیال ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی جس طرح عالمی اور مقامی سطح پر جنرل پرویز مشرف کے خلاف دباؤ شدید ہو رہا ہے ایسے میں انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ عملی طور پر انہوں نے وردی اتار دی ہے اور اب اس کا محض اعلان باقی ہے۔

وزیراعظم شوکت عزیز کے علاوہ ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے اقدامات کی بیشتر وزراء اور حکومتی اہم شخصیات دفاع کرنے سےگریزاں ہیں۔ اکا دکا جن وزراء نے ابتدا میں اس کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کی بات کی تھی اب ان کے تیور اور بول چال میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے بیان کے بعد واضح تبدیلی آ چکی ہے۔

وزیراعظم شوکت عزیز، وزیراطلاعات محمد علی درانی اور ان کے نائب طارق عظیم اور چودھری شجاعت کہتے رہے ہیں کہ انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے لیکن عالمی رد عمل کے بعد انہوں نے پہلے کہا کہ کچھ مدت کے لیے انتخاب ملتوی ہوگا۔ بعد میں کہا انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا۔اب چودھری شجاعت حسین کا تازہ فرمان آیا ہے کہ انتخابات فروری میں ہوں گے۔

حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کا بیان اپنی جگہ لیکن وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی کہتے ہیں کہ جنوری میں محرم الحرام کی وجہ سے انتخابات نہیں ہوں گے اس لیے فروری میں کرائے جائیں گے۔

یہ محض اتفاق ہے یا کچھ اور کہ بش صاحب اور بینظیر صاحبہ کی جانب سے جنرل پرویز شرف کے خلاف وردی اتارنے، آئین بحال کرنے، ایمرجنسی ختم کرنے اور عام انتخابات مقررہ وقت پر کرنے کے بیانات ایک ہی روز تھوڑے وقت کے فرق سے سامنے آئے ہیں۔

ا

’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘
 ترجمان کے مطابق صدر مشرف نے امریکی صدر کو بتا دیا ہے کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے
مریکی ترجمان نےصدر جنرل پرویز مشرف سے فون پر اپنے صدر کی بات چیت کی تصدیق کی ہے لیکن جنرل مشرف کے ترجمان کہتے ہیں کہ ہاں فون آیا تھا لیکن جنرل صاحب نے انہیں صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان بھر میں لوگ مخمصے میں ہیں کہ اب کیا ہوگا۔ جبکہ حکومتی حلقے بھی غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ فیصلہ تو جنرل پرویز مشرف کو کرنا ہے۔ لیکن اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی سے صدر جنرل پرویزمشرف کی مفاہمت بھی کھٹائی میں پڑ چکی ہے۔

بینظیر بھٹو جو کئی دنوں سے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا تھی اب بظاہر لگتا ہے کہ انہوں نے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ نو نومبر کو راولپنڈی میں حکومت کی پابندیوں کے باوجود جلسہ عام کرنے کے ان کے اعلان پر پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی پر ’کریک ڈاؤن‘ شروع کردیا ہے۔دوسری اپوزیشن جماعتوں اور وکلاء کے ساتھ اب پیپلز پارٹی کے بھی سینکڑوں ورکر جیلوں میں قید ہیں۔

بینظیر بھٹو نے تیرہ نومبر کو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا بھی اعلان کر رکھا ہے لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے جنرل مشرف سے رابطوں کا دروازہ بھی بند نہیں کیا۔

موجودہ حالات میں جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی میں سے بظاہر بینظیر بھٹو کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے اور ایسے میں جنرل پرویز مشرف کی کوشش ہوگی کہ جتنا مل سکتا ہے لے لو ورنہ انہیں بھی احساس ہو چلا ہے کہ پیپلز پارٹی سے محاذ آرائی ان کے سیاسی مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر جس طرح ایمرجنسی نافذ کرکے آئین کو معطل کیا اور ججوں کو حراست میں رکھا ہے اس سے ان کی پوزیشن بہت زیادہ کمزور ہوچکی ہے۔ اب تو عام لوگ بھی یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر جنرل پرویز مشرف بندوق کے زور پر ’جرنیلی جمہوریت‘ کا نفاذ چاہتے ہیں تو پھر ان میں اور بندوق کی طاقت پر جو شدت پسند اپنی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں، کوئی فرق نہیں بچتا۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی ہٹائی جائے: بش
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد