BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 November, 2007, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کی پیشکش مبہم ہے: بینظیر

 بینظیر بھٹو فائل فوٹو
اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کا ورکر کنویشن جاری ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پندرہ فروری تک عام انتخابات منعقد کرائے جانے کی ’پیشکش‘ کو مسترد کرتے ہوئےکہا ہے کہ یہ ایک مبہم اعلان ہے۔

’یہ اعلان کوئی الیکشن شیڈول نہیں ہے بلکہ مبہم بات ہے۔ ہم جنرل پرویز مشرف کے آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائرمینٹ اور انتخابی شیڈول چاہتے ہیں۔ دو ہزار چار میں بھی جنرل نے کہا تھا کہ میں وردی اتار دوں گا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ پھر جنرل مشرف نے مجھ سے مذاکرات میں وعدہ کیا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وردی اتاردوں گا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا‘۔


یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ اور فیڈرل کونسل کے اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں کہی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہ ملنے کے باوجود جمعہ نو نومبر کو لیاقت باغ میں ہونے والا پی پی پی کا جلسہ ہر صورت میں ہوگا۔ انہوں نے ملک بھر سے اپنے کارکنوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

’جو لوگ پاکستان کا پرچم کا ہٹاتے ہیں، فوج پر حملے کرتے ہیں انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا۔ صرف جمہوریت پسندوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اس لیے کہ ان کی جنگ جمہوریت پسند قوتوں سے ہے‘۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیر آئے روز جلسے کرتے ہیں جب انہیں خطرہ نہیں تو پیپلز پارٹی کے جلسے کو خطرہ کیوں لاحق ہوجاتا ہے؟۔

انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر کل 9 نومبر تک الیکشن شیڈول کا اعلان نہ ہوا تو پی پی پی اپنے لانگ مارچ کے پروگرام پر عمل درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں شامل دس لاکھ لوگوں کے قدموں کی آواز کے آگے فوجی بوٹوں کی آواز بھی دب کر رہ جائے گی۔

انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا نام لے کر کہا کہ انہیں اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے دیگر ججوں کو فوری طور پر بحال کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی صدارتی اہلیت اور قومی مفاہمتی آرڈیننس سمیت تمام اہم مقدموں کی سماعت پی سی او کے تحت گرفتار ججوں کو کرنی چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر مشرف سے ان کے مذاکرات آئین کی معطلی کے ساتھ ہی تعطل کا شکار ہو گئے ہیں اور ان کی بحالی آئین کی بحالی سے پہلے نہیں ہو سکتی۔

بینظیر بھٹو نے فوج پر کھل کر بات کی اور کہا کہ جس فوج کا سربراہ ملک کا صدر بھی ہو وہ پروفیشنل آرمی نہیں رہتی اور نہ ہی لڑسکتی ہے۔

’میں سمجہتی ہوں کہ ہم اپنی فوج سے زیادتی کرتے ہیں جب ہم کہتے ہیں کہ جاؤ سیاچن میں مقابلہ کرو اور وہاں سے واپس آنے کے بعد بلوچستان اور وزیرستان میں لوگوں سے مقابلہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو یہ ممکن نہیں ہوتا، یہ ہمارے جوانوں کا قصور نہیں ہے۔ اگر ہماری فوج منتشر نہ ہوتی اور بے قائد نہ ہوتی تو یہ ہمیں سننا نہ پڑتا کہ ان پر سوات میں حملہ ہوا ہے اور بلوچستان میں حملہ ہوا ہے‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ آٹھ کروڑ ڈالر روزانہ جاسوسی کے لیے ملتے ہیں، آخر یہ رقم کہاں جاتی ہے اس کا حساب دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ تیسری بغاوت کی ہے۔ پہلے پارلیمان کا تختہ الٹا، پھر سپریم کورٹ کے خلاف بغاوت کی اور جسٹس سعید الزماں صدیقی کو ہٹایا اور اب عدلیہ کے خلاف دوسری بار بغاوت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہٹایا ہے۔

بینظیر بھٹو نے جہاں اوکاڑہ کے کسانوں کو زمینوں کے مالکانہ حقوق دینے کی بات کی وہاں انسانی حقوق کے کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر سمیت دیگر کی گرفتاریوں کو بھی ملکی بدنامی سے تعبیر کیا۔

صدر جنرل پرویز مشرف مشرف کی ’جلدی‘
’کہیں وائس چیف بڑا ہو کر حق نہ مانگنے لگے‘
پی پی پی’چاروں جانب سناٹا‘
منظم تحریک سیاسی جماعتوں کے بناء ناممکن
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
بات سے باتجنرل مشرف کاجواز
’جمہوری ہونے میں وقت لگے گا‘ وسعت اللہ
اسی بارے میں
اسمبلی میں شرکت نہیں: بینظیر
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد