BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 October, 2007, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لگتا ہے وزیراعظم نے حکم عدولی کی‘

عدالت کا حکم تھا کہ نواز شریف کو پاکستان لوٹنےدیا جائے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ پر موجود ہے اور اس پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہونا چاہیے۔

یہ ریمارکس انہوں نے نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے ۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل ملک قیوم سے پوچھا کہ عدالتی احکامات کی حکم عدولی کرنے والے کن افراد کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے جائیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس ضمن میں اعلٰی ترین سطح پر بات کرنا ہوگی۔

 عدالتی احکامات کی حکم عدولی کرنے والے کن افراد کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے جائیں
چیف جسٹس

سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان، جنہیں عدالت نے اس مقدمے میں طلب کیا تھا، نے عدالت میں ایک بیان جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعظم شوکت عزیز نے نو ستمبر کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ وی آئی پی جہاز کا بندوبست کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد مزید احکامات موصول نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری خارجہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری اور چیف پروٹوکول افسر نذیر احمد کا تحریری بیان بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نو ستمبر کو سیکرٹری خارجہ نے انہیں فون کیا تھا کہ وہ ایک وی آئی پی جہاز کا بندوبست کریں۔ پی آئی اے کے چیئرمین ظفر اے خان نے بھی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی نو ستمبر کو ایک وی آئی پی شخصیت کے لیے جہاز کا بندوبست کرنےکے احکامات حاصل ہوئے تھے۔

نواز شریف کو ہوائی اڈے سے ہی جدہ روانہ کر دیا گیا

چیف جسٹس نے پی آئی اے کے چیئرمین سے پوچھا کہ نواز شریف کو اسلام آباد سے جدہ لے کر جانے والی فلائٹ کا بل کس نے ادا کیا، جس پر پی آئی اے کے چیئرمین نے کہا کہ انہوں نے یہ بل وزارت خارجہ کو بھجوا دیا تھا۔

بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ کوئی شخص بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے کہ نواز شریف کو دوبارہ جلاوطن کرنے کے احکامات کس نے دیئے تھے۔

درخواست گزار کے وکیل فخرالدین جی ابراہیم نے عدالت سے درخواست کی کہ جو افراد توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ان کو نوٹسز جاری کرکے عدالت میں طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے سیکریٹری خارجہ کو فون کرکے جہاز ریزرو کروایا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ہی توہین عدالت کا ارادہ کر چکے تھے۔

سب کی نگاہیں اس بات پر ٹکی تھیں کہ نواز شریف کی واپسی پر حکومت کیاحکمت عملی اختیار کرے گی

درخواست گزار کے وکیل نے صدر جنرل پرویز مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ متعدد بار بیان آ چکا ہے کہ وہ نواز شریف کو واپس نہیں آنے دیں گے۔ اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ کسی کو ایسا بیان جاری نہیں کرنا چاہیے اور بالخصوص ان معاملات میں جو عدالت میں زیرسماعت ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر عدالتیں بند کر دیں۔

وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے وزیراعظم شوکت عزیز کی طرف سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کا ایک تحریری بیان عدالت میں جمع کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔

وسیم سجاد نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے مؤکل کو سیکرٹری خارجہ کے بیان کی روشنی میں ایک تفصیلی بیان دینے کی اجازت دی جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل ملک قیوم کو دس منٹ کا وقت دیا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اعلٰی سطح پر بات کرکے بتائیں کہ کس ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مقررہ وقت گزرنے کے بعد جب عدالت نے اپنی کارروائی دوبارہ شروع کی تو اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی اعلٰی سطح پر بات نہیں ہو سکی لہٰذا انہیں اس ضمن میں کچھ وقت درکار ہے۔ عدالت نے توہین عدالت کی اس درخواست کی سماعت آٹھ نومبر تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ توہین عدالت کی اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔ اس بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار رضا محمد خان، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس جاوید بٹر، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس راجہ فیاض شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو دس ستمبر دو ہزار سات کو اس وقت زبردستی ایک خصوصی پرواز کے ذریعے جدہ بھیج دیا گیا جب ان کا طیارہ لندن سے اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچا تھا۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریفنواز فلائٹ
ہیتھرو سے اسلام آباد تک کا سفر
اخباراتسعودی عرب واپس
نواز شریف کی جلاوطنی پر اخبارات کا ردعمل
آخر ہوا کیا؟
اے پی ڈی ایم کے کارکن کہاں رہ گئے تھے؟
نواز لیگ کا سیز فائر
سعودی عرب کا حمایتی دھڑا جنگ جیت گیا
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
اسی بارے میں
نواز شریف حالات بدل دیں گے
24 September, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی دوسری واپسی
09 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد