BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 October, 2007, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شریف گرفتار کیوں نہیں ہوئے‘

کیا نواز شریف نے اپنا پاسپورٹ امیگریشن حکام کو دینے سے انکار کردیا؟
سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حالیہ جلاوطنی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران مدعا علیہان کو عدالت میں تفصیلی بیان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو پٹیشن کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فریق بنائے جانے والے افراد کی طرف سے داخل کیے جانے والے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں تین دن کے اندر تفصیلی جواب پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اس پٹیشن میں فریق بنائے گئے تیرہ افراد میں سے وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ کو عدالت میں پیشی سے مستثنی قرار دیا ہے جبکہ دس افراد کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ ان افراد کی طرف سے دائر کیے جانے و الے جوابات کا مطالعہ کر کے ان افراد کے نام بتائیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود نواز شریف کو زبردستی جدہ بھیجا۔

جب اس پٹیشن کی سماعت شروع ہوئی تو پی آئی اے کے ڈائریکٹر (لیگل) نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول اور ایڈیشنل سیکرٹری نذیر حسین نے نو ستمبر سنہ دوہزار کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نےوی وی آئی پی کے لیے ایک اضافی طیارہ بھی تیار رکھنے کو کہا تھا۔

شریف گرفتار کیوں نہیں کیے گئے؟
 ڈائریکٹر (لیگل) ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف نے اسلام آباد ائرپورٹ پر اپنا پاسپورٹ امیگریشن حکام کو نہیں دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نواز شریف کے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہیں تھا تو وہ ملک میں کیسے آئے اور اگر وہ سفری دستاویز کے بغیر ملک سے باہر گئے ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا۔
اس پر چیف جسٹس نے سیکرٹری خارجہ کو حکم دیا کہ وہ اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تفصیلی جواب عدالت میں پیش کریں کہ کس کے حکم پر ایک اضافی جہاز تیار رکھا گیا تھا اور اس کی منزل کون سی تھی۔ انہوں نے پی آئی اے کے چیئرمین کو حکم دیا کہ وہ اپنے جواب کے ساتھ تحریری دستاویز بھی لگائیں اور اس جہاز کے عملے کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کریں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتاتا کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے تین سو ترسیٹھ اسلام آباد سے کوئٹہ جا رہی تھی کہ راستے میں اس کا نمبر تبدیل کر کے اس کو جدہ روانہ کر دیا گیا۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ ایک جہاز کو اچانک اس کی طے شدہ منزل سے کسی اور جانب روانہ کردیا جائے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے وکیل نے کہا کہ اُس جہاز کے پائلٹ نے یہ فیصلہ کیا ہوگا کہ وہ جہاز کو کوئٹہ کی بجائے جدہ لے جائے جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس طرح تو اگر جہاز اغوا بھی ہوجائے تو بھی پائلٹ یہ نہیں بتاتا کہ وہ جہاز کو کدھر لیکر جا رہا ہے۔

عدالت نے ائر پورٹ سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل اور اسلام آباد ائرپورٹ کے سکیورٹی انچارج کو بھی نوٹسز جاری کیے ہیں کہ وہ دس ستمبر کو اسلام آباد ائرپورٹ پر ہونے والے واقعہ کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔

ڈائریکٹر (لیگل) ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف نے اسلام آباد ائرپورٹ پر اپنا پاسپورٹ امیگریشن حکام کو نہیں دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نواز شریف کے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہیں تھا تو وہ ملک میں کیسے آئے اور اگر وہ سفری دستاویز کے بغیر ملک سے باہر گئے ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر ایف آئی کے افسر کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی گئی۔

’بھیانک واقعہ ہے‘
’نواز شریف کے اغوا میں سعودی عرب کا ہاتھ‘
نواز شریفآخر کیا ہوا؟
اے پی ڈی ایم کے کارکن کہاں رہ گئے تھے
نواز لیگ کا سیز فائر
سعودی عرب کا حمایتی دھڑا جنگ جیت گیا
نواز شریف (فائل فوٹو)فائیو سٹار خواب
نواز شریف کا فائیو سٹار ٹرک چل نہ سکا
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
اخباراتسعودی عرب واپس
نواز شریف کی جلاوطنی پر اخبارات کا ردعمل
خدشات اور سکون
’ان کے چہرے پر پہلی دفعہ مکمل سکون تھا‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد