’انتخابات جنوری کے پہلے ہفتے میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالت غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گی، عام انتخابات نو جنوری تک منعقد کروائے جائیں گے اور اب تک حلف نہ لینے والے جج قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ ہنگامی حالت نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ ایوان صدر اسلام آباد میں قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ایک اخباری کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ قومی اسمبلی کی مدت پندرہ جبکہ تین صوبائی اسمبلیوں کی مدت بیس نومبر تک ختم ہو جائے گی۔ سرحد اسمبلی پہلے ہی متحدہ مجلس عمل کے اراکین کے مستعفی ہوجانے کے بعد تحلیل کر دی گئی تھی جبکہ باقی تین اب صدر کے بیان کے مطابق بیس نومبر کو تحلیل کردی جائیں گی۔ اپنی وردی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ معاملہ چونکہ سپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے لہذا وہ بطور سویلین صدر ان کے انتخاب کے باقاعدہ سرکاری اعلان کے فورا بعد حلف اٹھا لیں گے۔ ’جب عدالت اجازت دے گی میں حلف اٹھا لوں گا۔‘ ہنگامی حالت کے نفاذ کا دوبارہ دفاع کرتے ہوئے انہوں نے اس کے خاتمے کی کوئی واضع تاریخ دینے سے انکار کیا۔ بلکہ ان کا موقف تھا کہ ایمرجنسی سے بہتر انداز میں وہ امن عامہ برقرار رکھ سکیں گے، صاف و شفاف انتخابات منعقد کروا سکیں گے اور دہشت گردی کے خلاف بھر پور کارروائی کرسکیں گے۔ ’فوج کو اب لیڈ رول ادا کرسکے گی۔‘ آرمی میں حالیہ ترمیم کے بارے میں کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد ہرگز عام آدمیوں کی پکڑ دھکڑ اور انہیں فوجی عدالتوں کے سامنے پیش کرنا نہیں۔ ’اس کے ذریعے اب بہتر انداز میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بہتر انداز میں ہوسکے گی۔‘ جنرل پرویز مشرف نے ماضی کے برعکس معزول چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف نو مارچ کے ریفرنس میں عائد الزامات پر کھل کر روشنی ڈالی اور ان کا تفصیلی ذکر کیا۔ چیف جسٹس کے خلاف الزامات میں زیادہ پروٹوکول اور مراعات کا تقاضا، اپنی مرضی کے ججوں کی تعیناتیاں اور میڈیکل اور ٹی اے ڈی اے بلوں میں بے ضابطگیاں شامل تھیں۔ جنرل مشرف نے شکایت دوہرائی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو غیرموثر بنا دیا گیا ہے جبکہ ان الزامات پر سپریم کورٹ نے توجہ ہی نہیں دی۔ چیف جسٹس کے خلاف نو مارچ کو بھیجے جانے والے ریفرنس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گر اب کوئی ان سے دریافت کرے کہ انہیں یہ ریفرنس بھیجنا چاہیے تھا یا نہیں تو وہ شاید کہتے کہ نہیں لیکن ریفرنس درست تھا یا غلط تو وہ کہیں گے کہ درست۔ ’ کیا چیف جسٹس قانون سے بالاتر ہوتا ہے؟ کیا ان سے ملکی قوانین کے مطابق پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی؟‘ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ان کی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ تھا لیکن اس کا فیصلہ بہترین ملکی مفاد میں کیا گیا۔ صدر نے کہا کہ اگر ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی نہ روکی تو ہمیں خطرناک نتائج سے گزرنا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے ان کا ساتھ دیں۔ ’ہمیں دہشت گردی کی جڑ کو اکھاڑنا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ بعض ٹیلی وژن چینل اور ان کے بعض لوگ اپنے مخصوص سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے بلاوجہ پروپیگنڈا کرتے ہیں جس کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے میڈیا کو ذیادہ ذمہ دار ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال میں ایمرجنسی کا نفاذ ضروری تھا اور عام انتخابات کے پرامن انعقاد کے لئے بھی ضروری ہے تاکہ بیرون ممالک سے آنے والے مبصرین اور سیاسی رہنماؤں کے تحفظ ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو ہمارے بارے میں غلط طریقے سے بات کرنے کا حق نہیں ہے انہوں نے ٹیلی گراف کے نمائندوں کی ملک بدری کے بارے میں کہا کہ انہیں کچھ اخلاقیات سیکھ لینی چائیں اور اپنی ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چائیے۔ انہوں نے کہا اس اخبار نے جس قسم کے الفاظ استعمال کیئے ان کے لیئے اسے معافی مانگنی چاہیے۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ انہیں امید ہے بین الاقوامی برادری پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔ صدر کی اخباری کانفرنس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کا ہدف بین القوامی برادری ہی ہے جسے وہ تسلی اور یقین دہانی کرانا چاہتے تھے کہ وہ اب بھی اپنے جمہوریت کے منصوبے پر قائم ہیں۔ سوالات میں انہوں نے خصوصی طور پر ترجیح غیرملکی صحافیوں کو دینے کے لیے کہا۔ |
اسی بارے میں ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ کالعدم06 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی قومی مفاد میں لگائی‘10 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی:اندرون سندھ صحافی ہراساں10 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت بحال کریں: صدر بش05 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی تاریخ کا ایک سیاہ باب‘ 03 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی نہیں، مارشل لاء ہے‘03 November, 2007 | پاکستان ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||