مشرف میرے موقف سے آگاہ ہیں:بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہیں صدر پرویز مشرف پر اعتماد نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر بش کا کہنا تھا کہ پاکستانی صدر پرویز مشرف میرے موقف سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کو علم ہے کہ امریکہ پاکستان میں ایمرجنسی کا جلد از جلد خاتمہ اور انتخابات کا انعقاد چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کو القاعدہ کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ صدر بش نے اس موقعے پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنرل پرویز مشرف کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ القاعدہ کے خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں اور اسی طرح ان کی سیاسی مخالف بینظیر بھٹو بھی القاعدہ کے خطرے کی سنگینی کو سمجھتی ہیں۔ صدر بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر مشرف سے گزشتہ ایک ہفتے قبل ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صدر بش نے پاکستانی صدر جنرل مشرف سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارلیمانی انتخابات کروائیں اور فوج کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے عہدے سے دستبردار ہوں۔ اس سے پہلے بھی واشنگٹن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر بش نے کہا تھا کہ امریکہ نے پہلے ہی پاکستانی رہنما سے کہا تھا کہ ایمرجنسی نافذ نہ کریں۔انہوں نے کہا تھا کہ’ہم توقع کرتے ہیں کہ جس حد تک جلد ممکن ہو انتخابات کرائے جائیں اور صدر اپنی فوجی وردی اتار دیں۔ اس اقدام سے پہلے ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ایمرجنسی جمہوریت کی جڑیں کاٹ دے گی۔ اب ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ جس قدر جلد ہوسکے جمہوریت کو بحال کریں گے۔‘ |
اسی بارے میں ’انتخابات کروائیں، وردی اتاردیں‘08 November, 2007 | پاکستان پہلے سے مراسم نہ رہیں گے: امریکہ05 November, 2007 | پاکستان عالمی برداری کو افسوس اور پریشانی03 November, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||