ایمرجنسی:اندرون سندھ صحافی ہراساں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سندھ کے اندرونی علاقوں میں صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس اور خفیہ اداروں کےاہلکار ہراساں کر رہے ہیں۔ اندرون سندھ میں صحافیوں کو پہلے ہی جاگیردارانہ سماجی پس منظر کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا لیکن ایمرجنسی کے نفاذ نے ان کی دشواریاں بڑھا دی ہیں۔ انہیں اپنے کیمرے نکال کر ریکارڈنگ کرنے سےمنع کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کو بینظیر بھٹو کی اسلام آباد میں نظربندی کے خلاف سکھر میں پیپلز پارٹی کے مقامی کارکنان کی جانب سے احتجاج کی اطلاع تھی۔ پولیس کے ناکوں کی وجہ سے کارکنان پہنچ نہیں سکے۔ لیکن اس دوران پولیس افسران صحافیوں کو پریس کلب کے دروازے کے اندر رہنے اور اپنے کیمرے باہر نہ نکالنے کی ہدایات کرتے رہے۔
سکھر میں جیو نیوز کے نمائندے شاھد علی بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ ان حالات میں رپورٹنگ کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ ’جب سے ایمرجنسی کا نفاذ ہوا ہے آپ کہیں کوریج نہیں کر سکتے، کہیں جا نہیں سکتے آپ کیمرہ نہیں اٹھا سکتے۔‘ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اندرون سندھ کے تمام شہروں بشمول لاڑکانہ، دادو، سیہون، نوابشاہ، سکھر، خیرپور، جیکب آباد و دیگر شہروں کے پریس کلبوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری روزانہ تعنیات کردی جاتی ہے۔ اندرون سندھ کے صحافیوں کا الزام ہے کہ انہیں اپنا کام کرنے سے روکنےکے لیے پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکار ہراساں کر رہے ہیں۔ سکھر پریس کلب کے جنرل سیکریٹری جان محمد کےمطابق پولیس نے انہیں پریس کلب کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرانے سے منع کردیا ہے۔ جان محمد کے مطابق پریس کلب کے مینیجر کو پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا ہے اور پریس کلب کے سابق جنرل سیکریٹری کے گھر پر چھاپہ مار کران کے دو بھائیوں کو گرفتار کیا گیا۔ جان محمد کےمطابق پولیس کا سخت دباؤ ہے کہ ایمرجنسی کے خلاف ہونے والے کسی بھی احتجاج کی کوریج نہ کی جائے۔ سندھی روزنامہ کاوش اور کے ٹی این نیوز چینل کے ریجنل بیورو چیف ممتاز بخاری کا کہنا تھا کہ انہیں اپر سندھ کے مختلف شہروں سے ان کےنمائندے حکومتی پریشر کے بارے میں بتا رہے ہیں اور وہ حالات سے خوفزدہ ہیں۔ اندرون سندھ میں صحافت پر مبینہ غیر اعلانیہ پابندیوں کےمتعلق پولیس کا موقف جاننے کے لیے سکھر ریجن کے سینئر پولیس افسران سے بار بار رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ |
اسی بارے میں ’میڈیا پر پابندی کالا قانون ہے‘04 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان صحافی: سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ 04 November, 2007 | پاکستان غیرمعمولی حالات میں غیر روایتی ذرائع ابلاغ 07 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||