’ایمرجنسی میں انتخابات مشکل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے صدر مشرف کی جانب سے نوجنوری سے پہلے انتخابات کے اعلان کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ آرمی ایکٹ اور ایمرجنسی کے ہوتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہونا مشکل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تمام صورتحال کے بارے میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے جس کے بعد کوئی واضح لائن آف ایکشن دی جاسکے گی۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔بےنظیر بھٹو نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونا ایک مثبت اقدام ہے لیکن صورتحال اتنی بگڑی ہوئی ہے کہ یہ کہنا کہ بحران ٹل گیا ہے بالکل غلط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں دو طرح کی باتیں کی جارہی ہیں ایک طرف الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے اور دوسری طرف ایمرجنسی بدستور ہے اور ایک ایسا آرمی ایکٹ لایا گیا ہے جس میں عام شہریوں کو بھی ٹرائل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا آرمی ایکٹ میں کم از کم یہ تفریق کی جانی چاہیے کہ صرف دہشت گردوں اور القاعدہ کے خلاف اس کااطلاق ہو اور عام شہری کے خلاف مقدمہ آرمی عدالت میں نہ چلایا جائے۔ انہوں نے عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ موجودہ عدالتوں کو وکیل نہیں مانتے پاکستان میں عدلیہ متنازعہ ہوچکی ہے اس لیے اگر انتخابات میں کسی معاملے پر کسی اعتراض کی صورت میں عدلیہ سے رجوع بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بننظیر بھٹو نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دوبارہ تشکیل دیا جائے۔ بے نظیر بھٹو نے اس بات کا کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ اگر ایمرجنسی بدستور نافذ رہتی ہے تو کیا پیپلز پارٹی بائیکاٹ کرے گی لیکن جب ان سے دوبارہ یہی سوال پوچھا گیا تو ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ تمام صورتحال کے بارے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔
انہوں نے مشترکہ جدوجہد کی حمایت کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے جلاوطن سربراہ نواز شریف سے ان کی دوبارہ مفاہمت کے امکان پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ جدوجہد کی آواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ اس میں بوٹوں کی آواز دب جاتی ہے۔ بینظیر نے واضح کیا کہ لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق تیرہ نومبر کو ہوگا۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پندرہ نومبر تک وردی اتارنے کے وعدے کو پورا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت صدر اپنے عہدے کی معیاد مکمل ہونے کے باوجود اپنے جانشین کے منصب سنبھالنے تک اس عہدے پر فائزہ رہے گا۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔ ان کے بقول سپریم کورٹ نے ان کو صرف صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کلیئر کیا تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ جب آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بعد مشرف اپنے لوگوں کو تخفظ نہیں دے سکتے تو نگران حکومت میں شامل ہوکر کیا کریں گے۔ انہوں نے امر کا اعادہ کیا کہ عدلیہ کو بحال کیا جائے۔ اس سے قبل ہنگامی حالت نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ ایوان صدر اسلام آباد میں قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ایک اخباری کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ قومی اسمبلی کی مدت پندرہ جبکہ تین صوبائی اسمبلیوں کی مدت بیس نومبر تک ختم ہو جائے گی اور ان کی تحلیل کے بعد نو جنوری 2008 سے قبل پاکستان میں ایک ہی دن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کروا دیے جائیں گے۔ صدر مشرف نے اپنے خطاب میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا دوبارہ دفاع کرتے ہوئے انہوں نے اس کے خاتمے کی کوئی واضع تاریخ دینے سے انکار کیا تھا اور ان کا موقف تھا کہ ایمرجنسی سے بہتر انداز میں وہ امن عامہ برقرار رکھ سکیں گے، صاف و شفاف انتخابات منعقد کروا سکیں گے۔ |
اسی بارے میں ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ کالعدم06 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی قومی مفاد میں لگائی‘10 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی:اندرون سندھ صحافی ہراساں10 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت بحال کریں: صدر بش05 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی تاریخ کا ایک سیاہ باب‘ 03 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی نہیں، مارشل لاء ہے‘03 November, 2007 | پاکستان ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||