صدر مشرف کی پسپائی یا نئی مورچہ بندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اینڈ کمپنی کو ایمرجنسی کے بعد ایک سال مزید اقتدار کے ایوانوں میں اپنی زندگی گزارنے کا یقین ہوچلا تھا لیکن اتوار کو جنرل صاحب کے اچانک اسمبلیوں کی تحلیل اور جنوری کے پہلے ہفتے میں عام انتخابات کے اعلانات نے سب کو حیران کردیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے ہمنوا جو ایک سال مزید جھنڈے اور ڈنڈے والی گاڑیوں میں اپنا مستقبل محفوظ سمجھ رہے تھے اب جنرل صاحب کے اعلانات سے انہیں ایک روز بھی اضافی نہیں مل رہا اور اچانک ان کے خواب چکنا چور ہوگئے ہیں۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان میں عام انتخابات کے بارے میں ایک ہفتے سے بھی کم دنوں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے دو اعلانات ’تھری بی‘ یعنی صدر بش، وزیراعظم براؤن اور بینظیر بھٹو کے علیحدہ علیحدہ زاویوں سے مگر مشترکہ مقصد کے لیے ڈالے گئے دباؤ اور دی گئی دھمکیوں کا نتیجہ ہے۔ ان دھمکیوں میں امریکہ کی جانب سے روزانہ ملنے والی بقول بینظیر بھٹو کے آٹھ کروڑ ڈالر کی امداد روکنے، برطانوی مراعات ختم ہونے، ملک کے اندر سے فوج کے خلاف ’اورینج انقلاب‘ بھڑکنے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی دھمکی بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔ جبکہ کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ جنرل پرویز مشرف ایک کمانڈو ہیں اور انہیں دشمن کے خلاف جنگ لڑنے کے حربوں پر مہارت حاصل ہے اور انہوں نے مقررہ وقت پر اسمبلیاں تحلیل کرکے عام انتخابات کے اعلان کے بدلے تاحال فوجی عہدہ چھوڑنے اور ایمرجنسی ہٹانے کی کوئی تاریخ نہ دینے کا اختیار حاصل کیا ہے اور یہ ان کی جنگ میں مورچہ تبدیل کرنے کی ایک حکمت عملی ہے۔ بہرحال صورتحال جو بھی ہو صدر کے عجلت میں کردہ ان اعلانات سے بیرونی اور اندرونِ ملک سے ان پر اٹھنے والے دباؤ کی شدت کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتی ہے۔ کیونکہ وکلا، سول سوسائٹی، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات اعلانات سے آگے کے ہیں۔ یعنی ایمرجنسی ختم کریں، آئین بحال کریں، تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ بحال کریں، ٹی وی چینلوں کی نشریات بحال کرنے اور پابندیوں کے بارے میں ترامیم واپس کی جائیں۔
اب ان مطالبات میں گزشتہ شب جاری کردہ آرمی ایکٹ کی ترمیم بھی واپس کرنے کا مطالبہ شامل ہوگیا ہے جس کے تحت فوج سے متعلق امور میں عام شہریوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دی جانی ہیں۔ ایسی صورتحال میں بینظیر بھٹو کا ڈٹے رہنا یا پلٹہ کھانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس بات کا ادراک انہیں بھی بڑی اچھی طرح ہوگا۔ ملکی اور غیر ملکی حالات کی وجہ سے صورتحال بظاہر بینظیر بھٹو کے حق میں بنتی جارہی ہے اور اگر انہوں نے اب بھی اگر جنرل کو کندھا دیا تو پھر جمہوریت کا جنازہ بھی جلد پڑھنا پڑھے گا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے جو بھی کیا اور کہا ہے وہ ان کے بقول قومی مفاد میں ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو گزشتہ کئی ماہ سے صدر جنرل پرویز مشرف کو کئی معاملات میں پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے۔ چاہے وہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی ہو یا چند روز پہلے انتخابات فروری کے وسط تک کرانے کے اعلانات، ہر مرتبہ انہیں منہ کی کھانی پڑی اور شاید یہی وجہ ہے کہ لندن کے اخبار ٹیلی گراف سمیت کئی نے لکھنا شروع کردیا ہے کہ ’پاکستان میں امریکہ اور برطانیہ کا سب سے بڑا مہرہ جنرل پرویز مشرف چھُٹے ہوئے کارتوس کی مانند ہوگیا ہے۔‘ اگر ان مغربی تبصرہ کاروں کی بات سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو بھی یہ اپنی جگہ واضح حقیقت نظر آتی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا اقتدار اب کیلے کی کھال پر کھڑا ہے جو کسی وقت بھی پھسل سکتا ہے۔ ایسے میں کئی لوگ مانتے ہیں کہ اگر جنرل پرویز مشرف قومی مفاد میں نہ سہی اپنے مفاد میں ہی اگر قوم کو خدا حافظ کہہ دیں تو ایک بار پھر ان کی بلے بلے ہوجائے گی اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں انہیں ایک نئی حیثیت مل جائے گی۔ اس سے پہلے کہ پاکستان کی بے رحم سیاست کے کوچے سے جناب کو رسوا ہونا پڑے اگر ان کا کوئی خیر خواہ ہوا تو انہیں مشورہ ضرور دیگا۔ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی رائے اور لوگوں کی خواہشیں اپنی جگہ پر لیکن اسلام آباد کے جی الیون کی ایک مارکیٹ میں کھڑی ٹیکسی کے ڈرائیور عبدالرحمٰن کی رائے ان سے کافی مختلف لگی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بات سیدھی ہے جناب دیکھو فوجیوں کی حالت یہ ہے کے وردی نہیں پہن سکتے، اسلام آباد میں رینجرز کے روپ میں فوجی تعینات ہیں، رینجرز والوں کی گاڑیاں نیلی ہوتی ہیں لیکن میریٹ ہوٹل کے قریب گرین بیلٹ میں سب ہرے رنگ والی فوجی گاڑیاں کھڑی ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ مشرف صاحب نے انتخابات وقت پر کرانے کا اعلان کور کمانڈرز کے کہنے پر کیا ہے، یہ جو کل اجلاس ہوا نہ ، اس میں انہوں نے کہا ہے کہ اب بس کرو جان چھوڑو۔‘ میں ان کی بات سن کر ششدر ہوگیا۔ اچانک ذہن میں چند برس پلے اس دوست کی وہ بات یاد آگئی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہر دو ٹیکسی ڈرائیوروں میں سے ایک ایجنسیوں کا ہوتا ہے۔ سگریٹ کا لمبا کش لگاتے ہوئے عبدالرحمٰن بولا ’امریکہ بمریکہ، بینظیر مینظیر کچھ نہیں مشرف صاحب کے لیے، سمجھا کرو یہ اندر کا پریشر ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||