مشرف کے بیان کا عالمی خیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نو جنوری سے قبل عام انتخابات کے انعقاد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل مشرف کی جانب سے انتحابات کے انعقاد اور دروی اتارنے کی تازہ یقین دہانیاں ایک’مثبت قدم‘ ہیں۔ کونڈالیزا رائس کا کہنا تھا کہ’ یہ دونوں چیزیں پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر واپس لانے کے لیے لازم ہیں‘۔ تاہم انہوں نے صدر مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد ایمرجنسی اٹھانے بھی اعلان کریں۔ امریکی وزیرِخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ اب بھی پاکستان کی امداد پر نظرِ ثانی کر رہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ’جمہوری ترقی کی راہ ہموار نہیں ہے اور یہ واضح طور پر ایسے حالات ہیں جنہیں بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اگر اس تجویز پر عمل کیا جائے کہ ہم وہ راستہ ترک کر دیں جو پاکستان میں جمہوری عمل کی واپسی کی جانب جاتا ہے تو میرے خیال میں ہم غلطی کریں گے‘۔ امریکہ کے علاوہ برطانیہ نے بھی صدر مشرف کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں آئین کی بحالی کے لیے’فوری اقدام ‘ چاہتا ہے۔ برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’ ہم مقررہ وقت پر پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل اور نو جنوری سے قبل انتخابات کے انعقاد کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں‘۔ تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، سیاسی قیدیوں کا رہا کیا جائے، سیاسی جماعتوں سے افہام و تفہیم سے کام لیا جائے اور ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں‘۔ |
اسی بارے میں ’انتخابات جنوری کے پہلے ہفتے،ایمرجنسی کی تاریخ ابھی نہیں‘ 11 November, 2007 | پاکستان پہلے سے مراسم نہ رہیں گے: امریکہ05 November, 2007 | پاکستان عالمی برداری کو افسوس اور پریشانی03 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||