اپنے عوام سے زیادہ بیرونی دنیا کی فکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف ہنگامی حالت کے نفاذ کے ایک ہفتے بعد کافی مختلف دکھائی دیے۔ وہ تین نومبر کی نصف شب کے قریب قوم سے خطاب کے وقت والے صدر نہیں تھے۔ اس مرتبہ وہ کافی پراعتماد اور ایک بظاہر واضع منصوبے کے حامل دکھائی دے رہے تھے۔ اس کی وجہ ایک روز قبل فوجی کمانڈروں کے اجلاس میں ہنگامی حالت کی تائید، ساتھیوں سے صلاح مشورے اور بین الاقوامی سطح پر ’پُھس پُھسا‘ ردعمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ تین نومبر کو یہ باتیں یقینی نہیں تھیں۔ اس روز اگر ان کا رویہ معذرت خوانہ تھا تو آج وہ پھر ایک ایسے شخص تھے جس کے ہاتھ میں تمام کنٹرول موجود تھا۔ایک ساتھی کے بقول ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد اپنی پہلی اخباری کانفرنس کے پہلے حصے میں وہ جمہوریت پسند اور دوسرے میں فوجی آمر ہی نظر آئے۔ پہلے حصے میں وہ ملک کو غالباً دوبارہ جمہوریت کی پٹڑی پر ڈال رہے تھے جبکہ دوسرے میں وہ اسے ایک ’ کنٹرولڈ‘ جمہوریت کے سانچے میں ڈھالنے کے تمام انتظامات کو یقینی بنا رہے تھے۔ جو تاثر ابھر کر نکلا وہ یہی تھا کہ شاید اگر حالات معمول کے مطابق رہتے، عدالت انہیں صدر مان لیتی تو محض صدر ہوتے ہوئے ان کے لیے ’صاف و شفاف‘ انتخابات منعقد کروانا ممکن نہیں تھا۔ اب وہ ہنگامی حالت کے ڈنڈے کے ساتھ زیادہ مسلح اور پراعتماد دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی ڈنڈے کے زور پر وہ اس قوم کو ان کے جمہوریت کے پروگرام کی جانب لے جا رہے ہیں۔ ایک اور خطرناک تاثر اس اخباری کانفرنس سے یہی ملا کہ ملک ایک دائرے یا ایک گرداب میں پھنس چکا ہے۔ دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد جیسی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ نو جنوری کے عام انتخابات کے بعد دو ہزار دو کے انتخابات کی طرح جنرل پرویز مشرف اور ان کے اتحادی اکثریت حاصل کر لیں گے، آئینی ترمیم کے ذریعے ایک اور ایل ایف او کو تحفظ ملے گا اور حزب اختلاف حسبِ روایت احتجاج کرتی رہ جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو فائدہ کس کو ہوگا؟ یقینا غیرجمہوری قوتوں کا۔ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے جنرل پرویز مشرف نے ایک اور اہم کارڈ بھی کھیلا ہے۔ انتخابی کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد سیاستدان جو پہلے ہی کئی مصلحتوں کا شکار ہیں ایک مرتبہ پھر ملک کو درپیش آئین و قانونی مسائل کو دوسری ترجیح بناتے ہوئے اپنی اپنی مہم میں جت جائیں گے۔
وہ صدر کی مزاحمت کی بجائے زیادہ وقت اپنے ووٹروں کے پیچھے بھاگنے میں صرف کر دیں گے۔ ایسے میں وکلاء اکیلے رہ جائیں گے اور لوگ حلف نہ لینے والے ججوں کو شاید بھول جائیں۔ ایسا کرنے میں فوجی حکمراں وقتی طور پر تو شاید کامیاب ہو جائیں لیکن طویل مدت کے لیے نہیں۔ دیگر ممالک کا پاکستان میں ہنگامی حالت کے خاتمے کا مطالبہ عام انتخابات کی تاریخ سے زیادہ پر زور تھا۔ وہ ہنگامی حالت اور اس کے نتیجے میں غیریقینی حالات کے خاتمے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ غیریقینی حالات کا القاعدہ اور طالبان کوئی فائدہ اٹھائیں۔ تاہم ابھی تک وہ صدر مشرف کی مشکلات کا خیال بھی رکھ کر قدرے کمزور سا ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے اخباری کانفرنس کا بظاہر اصل مقصد بین الاقوامی برادری کو یقین دہانیاں کرانا، تسلیاں دینا تھا۔ جنرل پرویز مشرف ایک ایسے صدر دکھائی دے رہے تھے جنہیں اپنی عوام سے زیادہ بیرونی دنیا کی زیادہ فکر لاحق تھی۔ پاکستانیوں کو خاطر میں نہ لانے کی دو بڑی وجوہات واضع تھیں۔ تقریباً ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس میں صدر نے صرف پانچ منٹ اردو کو دیے۔ دوسرا انہوں نے خود سٹیج سیکریٹری یعنی سیکرٹری اطلاعات انور محمود سے کہا کہ سوالات کے لیے زیادہ ترجیح غیرملکی صحافیوں کو دیں۔ ہم جیسے صحافی تو اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ عوام کا تو انہوں نے بظاہر پورا بندوبست کر لیا ہے۔ ان کے مخالف پانچ ہزار تو جیلوں میں بند ہیں۔ انہیں شاید قائل کرنے کی، ان سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے خدشات دور کرنے، انہیں ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت نہیں۔ باقی عوام کو تابعدار رکھنے کے لیے ایمرجنسی شاید کافی ہے اور اگر وہ نہیں تو آرمی ایکٹ تو کہیں نہیں گیا۔ |
اسی بارے میں ’انتخابات جنوری کے پہلے ہفتے،ایمرجنسی کی تاریخ ابھی نہیں‘ 11 November, 2007 | پاکستان آزادانہ انتخابات مشکل ہیں: بینظیر11 November, 2007 | پاکستان مشرف میرے موقف سے آگاہ ہیں:بش11 November, 2007 | پاکستان ’کنگز پارٹی کو جتوانے کامنصوبہ‘11 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||