 | | | ’کون کہتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف خوش قسمت نہیں ہیں‘ |
منظم تحریک تو خیر کیا چلے گی وہ غدر اور آپا دھاپی ہے کہ اپنی ہی آواز سننا مشکل ہو رہا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر اب تک نو مارچ کا آسیب ہے جب انہوں نے پہلی دفعہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کیا تھا۔اور دوسری دفعہ برطرف کرنے کے بعد بھی وہ انہیں نہیں بھولے بلکہ پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے انہوں نے وہ دبا ہوا غصہ بھی نکال دیا جو وہ افتخار چوہدری کے فعال چیف جسٹس ہوتے ہوئے نہ نکال سکتے تھے۔ صدرِ مملکت نے آج کی آدھی پریس کانفرنس نظربند چیف جسٹس کو معنون کردی اور سب کو پتہ چل گیا کہ آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کا سارا میلہ صرف عدلیہ کا رومال چرانے کے لئے لگایا گیا ہے۔دھشت گردی اور دیگر جوازات تو صرف ماورائے آئین اقدام کے کیک پر کی گئی آئسنگ ہے۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی رہنما اب بھی تمام مشرف مخالف قوتوں کو یکجا کرنے کے بجائے علیحدہ اسٹال لگانے پر بضد ہیں۔حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ سب کرنے کے بعد بھی جو انکے ساتھ ہے وہ انہی کے ساتھ رہے گا اور جو ساتھ نہیں ہے وہ کبھی انکے کیمپ میں نہیں آئے گا۔ کسی دن لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو صرف بے نظیر آئے گی روزگار لائے گی کے نعرے تلے یکجا کرنا چاہتی ہیں تو اگلے دن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں سب سے زیادہ فکر اس پاکستانی جھنڈے کی ہے جسے دھشت گرد خاطر میں نہیں لا رہے۔ تیسرے دن یوں لگتا ہے گویا وہ جنرل مشرف کی شکل گم ہونے، ایمرجنسی کے خاتمے اور تین نومبر سے قبل کی آئینی صورتحال بحال ہونے سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گی تو چوتھے دن ایسا لگتا ہے جیسے بے نظیر کے بقول صدر مشرف تو ٹھیک ہیں لیکن انکے اردگرد غلط لوگوں کا گھیرا ہے۔ جس طرح صدر مشرف، چوہدری برادران ، ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمان کو اندازہ ہے کہ کیا کھیلنا ہے، کہاں تک کھیلنا ہے اور کب نہیں کھیلنا۔بے نظیر کو شائد نو برس ملک سے دور رہنے کے سبب اس گیم کا پورا اندازہ نہیں ہے۔ابھی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ اس اسکرپٹ کو پڑھ پڑھ کر آگے بڑھ رہی ہیں جو وہ اٹھارہ مارچ کو اپنے بریف کیس میں لائی ہیں۔ لیکن یہ ساری صورتِ حال عام آدمی کے نقطہ نظر سے بالکل خوشگوار نہیں ہے۔بلکہ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان اس وقت کم و بیش تبدیلی کے لئے اتنی ہی بے چینی سے کروٹیں لے رھا ہے جس طرح کی بے چینی کے نتیجے میں گذشتہ برس نیپال اور اس سے چند برس پہلے یوکرین اور اس سے بھی کچھ برس پیچھے فلپینز میں تبدیلی آئی تھی۔ اگر آج کے پاکستان اور تبدیل شدہ نیپال، یوکرین اور فلپینز میں کوئی فرق ہے تو صرف اتنا کہ پاکستان میں عوامی خواہشات کے گرم توے پر چوٹ لگانے کے لئے کسی نے ہتھوڑا چھپا دیا ہے۔جن سے توقع تھی وہ خط، فیکس اور آل پارٹیز کانفرنس اور سپریم کونسل یا پارٹی کی مجلسِ عاملہ کے اجلاسوں میں جٹے ہوئے ہیں۔ان میں سے کوئی کسی پر مکمل اعتبار کرنے کو تیار نہیں چنانچہ تکلیف سے چیختے ہوئے عوام بھی ان میں سے کسی پر مکمل یقین کرنے پر آمادہ نہیں۔ کون کہتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف خوش قسمت نہیں ہیں۔ |