ویسٹ اوپن کارنر پلاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسا نہیں کہ سیاسی معاملات کا الجھاؤ، عدم رواداری، معاشی عدم مساوات، برادری ازم یا ملک کے مستقبل سے مایوسی محض ترقی پذیر معاشروں کا ہی مقدر ہے۔یہ وہ بیماریاں ہیں جو کسی بھی ملک کو کسی بھی وقت لاحق ہو سکتی ہیں۔ مثلاً بلجیم کو ہی لے لیں جس کے پاس بظاہر خدا کا دیا سب کچھ ہے۔ایک سو ستتر برس پرانے اس ملک نے اپنی اقتصادی بنیادیں افریقہ کی نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ پر استوار کیں۔ خواندگی اور سیاسی آزادی سو فیصد ہے۔ آئینی بادشاھت ہے۔آئین نہ صرف وفاقی اور علاقائی بلکہ نسلی خودمختاری کی بھی ٹھوس ضمانت دیتا ہے۔ معیارِ زندگی درجہ اول کا ہے جس کے سبب تیسری دنیا کے تارکینِ وطن جن ممالک میں بسنے کا خواب دیکھتے ہیں ان میں بلجیم بھی شامل ہے۔ لیکن ان تمام نعمتوں کے باوجود ملک میں بسنے والے دو بڑے نسلی گروہ ایک دوسرے سے نالاں ہیں۔ اکثریتی ڈچ نژاد فلیمنگز گروہ جو بلجیم کی آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں فرانسیسی بولنے والے چالیس فیصد ولونز کو خود پر اقتصادی بوجھ سمجھتا ہے۔ جب کہ ولونز کا خیال ہے کہ سیاسی اور اقتصادی معاملات میں انکی نمائندگی اقلیت ہونے کے سبب مستقل کم ہے۔ مثلاً اکثریتی گروہ یعنی فلیمنگز میں بے روزگاری کی شرح آٹھ فیصد ہے جبکہ اقلیتی گروہ ولونز میں یہ تناسب بیس فیصد کے لگ بھگ ہے۔ بدگمانی اتنی بڑھ چکی ہے کہ عام انتخابات کے تین ماہ بعد بھی ملک میں حکومت نہیں بن پائی۔ انیس سو اٹھاسی میں بھی حکومت سازی میں ایک سو اڑتالیس دن لگے تھے۔ سوائے ایک بے اختیار بادشاہ کے اس وقت قومی سطح کا کوئی رہنما نہیں جو دونوں نسلی گروہوں کو یکجہتی میں پرو سکے۔ برسلز سے صحافی شاداں اسلام کے ایک مضمون کے مطابق فلیمنگز اور ولونز ایک دوسرے سے سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ اب وہ بلجیم کو چیکو سلوواکیہ کی طرز پر دو علیحدہ علیحدہ خود مختار ملکوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔
ان حالات سے اکتا کر بلجیم کے ایک مدرس اور سابق صحافی گیرٹ سکس نے چند روز پہلے انٹرنیٹ پر ایک اشتہار شائع کردیا۔ جس کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ آبادی والا یہ ملک اپنی بادشاہت اور تاریخی ورثے معہ یورپی یونین اور ناٹو ہیڈکوارٹرز نیلامی کے لئے پیش کرتا ہے۔ اشتہار میں کہا گیا کہ بولی میں کامیاب ہونے والے کو اس سیکنڈ ہینڈ ملک کی جہاں ہے اور جیسا ہے کی بنیاد پر مفت ڈلیوری دی جائے گی۔ تاہم بولی دینے والے کو تین سو بلین ڈالر کے قومی قرضے کی ادائیگی بھی اپنے ذمے لینا ہوگی۔ اس اشتہار کے جواب میں صرف ایک پیشکش آئی اور وہ بھی محض چودہ ملین ڈالر کی۔چنانچہ گیرٹ سکس نے فی الحال نیلامی کا یہ اشتہار انٹرنیٹ سے اتار لیا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ پاکستان جیسے ممالک کے سیاسی و اقتصادی مسائل اور محرومیاں بلجیم جیسے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کئی گنا ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب تک کسی من چلے کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ پاکستان برائے فروخت کا اشتہار شائع کردے۔ اس کی غالباً ایک وجہ یہ ہے کہ بلجیم کے برعکس پاکستان ایک ایسا ویسٹ اوپن کارنر پلاٹ ہے جس کی لیز فوج کے پاس ہے۔ایسا قیمتی پلاٹ طویل المیعاد سرمایہ کاری کے لیے ہوتا ہے ۔بیچنے کے لئے تھوڑا ہی ۔۔۔۔۔۔ |
اسی بارے میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں25 September, 2005 | قلم اور کالم ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا18 December, 2005 | قلم اور کالم خاندان والوں سے کیا پردہ14 May, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم سب جمہوریت ہے21 May, 2006 | قلم اور کالم لبنان: ایک مملکتِ بے وجود13 August, 2006 | قلم اور کالم آٹھ اکتوبر فیسٹیول01 October, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||