حلال سؤر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدارتی انتخاب کے جائز و ناجائز ہونے کے معاملے پر چھ اکتوبر کی شام مشرف کیمپ کے ایک سرکردہ حمائیتی سے میری گفتگو ہوئی۔انکے دلائل کا لبِ لباب یہ تھا کہ صدارتی انتخاب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے منظور کردہ پانچ امیدواروں نے صدر کو منتخب کرنے والے سالم الیکٹورل کالج کے پلیٹ فارم پر لڑا۔اس انتخاب میں استعفیٰ ، بائیکاٹ اور ووٹ ڈالنے کے تینوں مروجہ جمہوری حقوق استعمال ہوئے۔کسی کو ووٹ دینے یا نہ دینے پر مجبور نہیں کیا گیا۔یہ کوئی یکطرفہ انتخاب بھی نہیں تھا کہ تمام ووٹ صرف ایک امیدوار کو ہی پڑے ہوں۔ پورے عمل کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر اور چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے بطور ریٹرننگ آفیسرز کی اور نتائج بھی انہوں نے ہی پولنگ کے فوراً بعد مرتب کیے۔لہذا یہ الزام بھی نہیں لگ سکتا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ مشرف کیمپ کے اس حامی کے بقول جو لوگ اس سب کے باوجود بھی میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنہوں نے سن چون سے دوہزار سات تک کے کسی بھی انتخابی عمل میں کیڑے نہ نکالے ہوں اور اسے ناجائز یا دھاندلی زدہ قرار نہ دیا ہو۔لیکن انہی لوگوں کی اکثریت انہی دھاندلی زدہ اور ناجائز منتخب اداروں میں اپنی نشستوں اور پارلیمانی مراعات سے بھی آخر تک چمٹی رہتی ہے۔ مشرف کیمپ کے اس حامی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو سیاستدان کاروبارِ مخالفت سے وابستہ ہیں یا رہے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنہوں نے کسی ایک یا دوسری حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے اپنے یا اپنے چہیتوں کے لئے کاروباری مفادات، مراعات، پرمٹ اور ٹھیکے حاصل کرنے سے انکار کیا ہو؟ کتنے ایسے ہیں جنہوں نے جونیجو دور سے آج تک اربوں روپے کے بینک قرضوں کی معافی کے عمل کے خلاف تحریک چلائی ہے؟ کتنے فیصد سیاستداں ہوں گے جو سیاسی انتقام یا کرپشن کے مقدمات کے خاتمے کے لئے جاری ہونے والے قومی مصالحتی آرڈیننس کے دائرے میں آئیں اور اسکا فائدہ اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہہ سکیں کہ ہم اپنے مقدمات کی ایسی معافی کے بجائے عدالت سے بری ہونا زیادہ پسند کریں گے؟ مشرف کیمپ کے اس حامی کے بقول اگر مخالفین میں ذرا سی بھی اخلاقی سکت ہوتی تو پھر چھ اکتوبر کو پورے ملک میں ہُو کا عالم ہونا چاہئیے تھا۔اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں کے جلوس نکلنے چاہئیں تھے۔کیا ان سیاستدانوں کو پندرہ کروڑ کی آبادی میں ایسے پچیس ہزار لوگ بھی نہ مل پائے جو اسلام آباد کے پارلیمنٹ سکوائر میں تکیے اور کمبل لے کر ایک ہفتے کا دھرنا دے دیتے اور یوکرین کی اپوزیشن کی طرح اپنے مطالبات منوا کر ہی اٹھتے۔اگر کسی نے چھ اکتوبر کو کہیں چھوٹی موٹی جلوسیاں نکالیں تو وہ وکلاء یا ایسے لوگ تھے جنہیں آپ سول سوسائٹی والے کہتے ہیں۔ٹی وی چینلوں پر لمبی چوڑی باتیں کرنے والے کہاں تھے۔ میں نے مشرف کیمپ کے اس حامی کے دلائل جب ایک اپوزیشن رہنماء کے سامنے دھرائے تو انہوں نے صرف یہ کہا کہ بس دعا یہ ہے کہ سترہ اکتوبر تک سپریم کورٹ کو بھی کہیں مولانا فضل الرحمٰن نہ ہوجائے۔ جہاں تک موجودہ قومی مصالحتی بل اور صدارتی انتخابی عمل کے تمام مروجہ قانونی تقاضے پورے کرنے کا حکومتی دعویٰ ہے تو اس اپوزیشن رہنماء نے مجھ سے پوچھا کہ کیا سؤر پر تکبیر پڑھ کر چھری پھیرنےسے سؤر حلال ہوجاتا ہے ؟؟؟ |
اسی بارے میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں25 September, 2005 | قلم اور کالم ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا18 December, 2005 | قلم اور کالم خاندان والوں سے کیا پردہ14 May, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم سب جمہوریت ہے21 May, 2006 | قلم اور کالم لبنان: ایک مملکتِ بے وجود13 August, 2006 | قلم اور کالم آٹھ اکتوبر فیسٹیول01 October, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||