BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 November, 2007, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہاں میں ڈر گیا ‘

رات کو چوسر کھیلنے والے دھیان رکھیں کھلاڑیوں کی تعداد تین ہی ہونی چاہیے ورنہ۔۔۔
سات نومبر دو ہزار سات کے دن ڈیڑھ بجے جب میں نے اپنی شریک زندگی سے ذکر کیا کہ میں ملک کی صورتحال پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔تو اُس کا جوابی عمل وہ ہی تھا جو کہ آج کل کی صورتحال میں کسی بھی خیال رکھنے والی خاتون خانہ کا ہو سکتا ہے۔

’اظہار رائے کوئی بُری بات نہیں مگر تم کِس کام میں پھنس رہے ہو۔ بچے بہت چھوٹے ہیں ان سےٹکر نہ لو، یہاں پر آواز اُٹھانے کی سزا جانتے ہو؟‘

جی ہاں میں ڈر گیا۔میں پانچ جولائی اُنیس سو اُناسی کو بہت چھوٹا تھا۔اُس دن ضمیمہ چھپا کہ کام ہوگیا، جبکہ اُس دن سے پہلے ہر باشعور شخص یہ کہتا نظر آتا تھا کہ:’وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔شیر پنجرے کے اندر بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ سعودی عرب کا بڑا پریشر ہے۔اسلامی دنیا کبھی ایسا نہیں ہونے دے گی۔ نہ ہی خود سوزیاں شیر کو بچا سکیں نہ ہی سر عام پھانسی لگنے والوں کے حق میں لوگوں کو اُن کے گھر سے نکلنے دیا گیا، تو ڈر تو لگتا ہے۔‘

اُنیس سو اکاسی کا کریک ڈاؤن۔۔۔ آواز اُٹھانے والوں کو گھروں سے اُٹھا لے گئے۔جیل میں تو پھر بھی بہتر سلوک رہا مگر قلعے کی صعوبتیں ۔۔۔۔ یہاں تک سنا کہ اُن پر چوہے چھوڑ دیےگئے۔ سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتاہے۔

جب ضمیمہ چھپا
 اُنیس سو اُناسی کو جب ضمیمہ چھپا کہ کام ہوگیا، اس سے پہلے ہر باشعور شخص یہ کہتا نظر آتا تھا کہ:’وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔‘

وہ بھی دن یاد آتا ہے جب اسلامی حکومت کے سچے دعویدار ٹیلی وژن پر تقریر کرتے ہوئے اپنے اوپر خود ہی ہنس رہے تھے۔ کچھ ہم خیال کہتے ہیں کہ نوے دن میں انتخابات کروا دیئے جائیں۔ میں نے کہا کہ نوے دن کا کوئی ذکر نہیں۔

ڈر اُس دن بھی لگا جب مری کے مال روڈ پر عام ٹریفک نہیں گزر سکتی تھی، کیونکہ کور کمانڈر صاحب کے برخودار کی سواری وہاں سے گزرنی تھی۔ آزاد ملک میں آزادی سے سیر کرنے کے خواہشمند افراد میں، میں بھی تھا۔ جو کہ مال روڈ کی پتھر کی دیوار سے چپکے ہوئے تھے۔ اور ڈر رہے تھےاُس وردی والے موٹی موٹی مونچھیں رکھے ہوئے شخص سے جو کہ عوام کو قابو کیے ہوئے تھا کہ کہیں فرزندِ اعلٰی کو مال روڈ سے گزرنے میں دقت نہ ہو۔

عارف اقبال بھٹی کے اُنیس سو اٹھاسی کے الیکشن میں ہال روڈ چوک کی کارنر میٹنگ میں جب انہوں نے کہا کے اگر کسی پر گولی چلے گی تو پہلی گولی کھانے والے وہ خود ہونگے۔ ہم سیاسی بصیرت تو نہ رکھتے تھے مگر شوق بہت رکھتے تھے۔ اگلے ہی روز اُن کے دفتر جو کہ اُن کی رہائش گاہ پر ہی واقع تھا پہنچے، رسائی حاصل کی اور انہیں مشورہ دے بیٹھے کہ سر آپ گولی وولی کی بات نہ کریں، ہمیں ڈر لگتا ہے اور باقی عوام بھی ڈر جائیں گے۔ لوگوں کو باہر نکالنا مشکل ہو جائے گا۔ بھٹی صاحب نے فرمایا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں اور ہمیں مشورہ دیا کہ ہم اپنی ورکنگ کریں اور انہیں نہ بتائیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ بھٹی صاحب الیکشن ہار گئے، سب جانتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد عارف اقبال بھٹی ایڈوکیٹ، لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد خبر ملی کہ جج صاحب کو گولی لگ گئی ۔۔ نہیں رہے ۔۔ ڈر لگا۔ لیکن نہ تو وہ پہلی گولی تھی نہ آخری ۔۔۔۔ جس ملک میں وزیر اعظم کے بھائی کو گولی لگ سکتی ہے تو ہم کیا بیچتے ہیں؟ صرف ڈر ہی سکتے ہیں۔

فرزندِ اول کا قافلہ
 ڈر اُس دن بھی لگا جب مری کے مال روڈ پر عام ٹریفک نہیں گزر سکتی تھی، کیونکہ کور کمانڈر صاحب کے برخودار کی سواری وہاں سے گزرنی تھی۔

بم دھماکے ہماری ثقافت کا حصّہ بن چُکے ہیں۔ کیسے ؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔ مگر بچوں کے ساتھ بازار جانا ہو یا سینما، ڈر لگتا ہے۔ بنیادی آزادیاں ملنا تو ایک طرف یہاں تو کوڑے کے ڈبے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ اسی لیے شاید اہم عمارات میں یہ ڈبے کم ہوتے جا رہے ہیں کہ عوام ڈریں نہ۔

فرق تو پڑتا ہے۔ اچھی قیادت سے، اچھے فیصلوں سے۔۔۔۔ اقتصادی حالات بھی اتنے بہتر ہو گئے ہیں۔ اُنیس سو اکاسی میں جب ہم اپنے پیاروں کو ملنے کوٹ لکھپت جاتے تھے تو تقریباً دو ڈھائی کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد ٹانگہ ملتا تھا۔ اُس کے بعد وہاں سے ایک سو تیرہ نمبر والوو بس میں سوار ہوتے تھے اور بالآخر گھر پہنچ ہی جاتے تھے۔ اب دو ہزار سات ہے اقتصادی حالات بہتر ہیں ہم جیل میں اپنے پیاروں کی خبر لینے لیز شدہ گاڑی میں جاتے ہیں۔ کھڑے ہوئے گارڈ بھی بدل گئے ہیں۔ ساتھ میں ایک بورڈ آویزاں ہے کہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں ڈیوٹی پر موجود افسران سے گھنٹی یا فون کے ذریعے بات کی جا سکتی ہے۔ مگر کسی اسیر کو دوا پہنچانے کی کیا ضرورت ہے؟ گارڈ کہہ تو رہا ہے کہ اندر جیل کے وڈا ڈاکٹر بھی موجود ہے اور چھوٹا بھی، اور یہ بات بھی ان کی صحیح ہے کہ چار ہزار سے زائد قیدی ہیں آخر وہ کس کس کو دوا دیں؟ اور ظاہر ہے ان کے لیے سب قیدی برابر ہیں۔ کسی قیدی سے امتیازی سلوک کیوں؟

اقتصادی حالات بہتر ہونے کا ایک نقصان بھی ہے۔ پہلے ہم ویگن یا بس میں سوار ہو کر فیروز پور روڈ کے ذریعے رش میں گھسٹتے پھسٹتے گھر تو پہنچ جاتے تھے۔ اب سوچتے ہیں کہ اپنی گاڑی میں گلبرگ کے مہنگے رہائشی علاقے سے نکل جائیں۔مگر جس سڑک پر وزیراعلٰی کا گھر ہو وہاں سے گزرنے کے اوقات تو ہمیں یاد رکھنے ہی چاہیے۔ظاہر ہے جب اتنی بڑی ہستی وہاں سے آ جائے تو باڑیں تو لگانی پڑیں گی۔وہ الگ بات ہے کہ باڑ ہٹ سکتی ہے صرف اُس وقت کہ جب ایک بڑی سی جیپ ہارن دے اور وہاں پر موجود تھکن سے چور کانسٹیبل اُس اعلٰی شخصیت کو سلیوٹ کرے۔ اچھی قیادت سے فرق اس قدر پڑ گیا کہ اتنی اعلی شخصیت کو یہ خیال کرنا پڑتا ہے کہ کہیں اگلی گاڑی میں ان سے بھی کسی اعلی شخصیت کا کوئی رشتہ دار تو نہیں۔

کون کہتا ہے کہ ایمرجنسی میں بنیادی آزادیاں سلب کر لی جاتی ہیں؟ کس کو بولنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ہاں لیکن سڑک پر نعرے لگانا مہذب قوموں کا شعار نہیں، اُس سے ہمیں منع ہی رہنا چاہیے۔ جلسے جلوس سےعوام کا نقصان ہوتا ہے۔ وقت کا بھی اور مال کا بھی۔ وہ الگ بات ہے کہ وزیراعلٰی پنجاب نے اتوار چار نومبر کو گجرات میں چند افراد سے بات چیت کی۔

پارلیمانی امور رہیں نہ رہیں وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا حکومت میں رہنا پکا ہے۔ صحیح بات کرتے ہیں وہ، نجی ٹی وی چینلز کو آزادی دینے کا یہ مقصد تو نہیں کہ جو چاہیں دکھاتے پھریں۔ جب کے پیمرا نے کئی بار خبردار بھی کیا۔ ڈاکٹر صاحب ٹھیک کہتے ہیں کہ صدر صاحب نے شفقت دکھائی اور چینلز کے افراد سے ملاقات کی مگر پھر بھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کا یہ گلہ بھی ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو مذاق بنا رکھا تھا۔ ہر چیز پر اعتزاز، ہر چیر پر اعتزاز۔ پارلیمنٹ کو کوئی اختیار ہی نہیں۔ تو لیجئے ڈاکٹر صاحب پارلیمنٹ کی ہتک کرنے والے ہٹ گئے اور یقیناً ایمرجنسی لگانے والے پارلیمنٹ کو اُسی طرح کام کرنے دیں گے جس طرح پہلے کر رہی تھی۔ اور ویسے بھی انگریزی میں کہتے ہیں نا کہ Too many cooks spoil the broth جب ایک شخص سب کی خیریت چاہتا ہے اور ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے تو پارلیمنٹ کو اُس کا ساتھ دینا چاہیے۔ لیکن میرا ایک مشورہ ہے کہ انتخاب میں حصّہ لینے کے خواہشمند حضرات کو ابھی اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام جو کسی بھی دستور ساز اسمبلی کا پہلا کام ہے یعنی سڑکیں بنوانا اور نالیاں پکی کروانا، تھوڑے دن کے لیے موخر کر دیں۔ وہ آپ نے پڑھا نہیں ابھی الیکشن ایک سال کے لیے ملتوی ہو سکتے ہیں؟

ہم کیا بیچتے ہیں؟
 مسٹر جسٹس عارف اقبال حسین کو کچھ عرصے کو گولی لگ ہی گئی ۔۔ نہیں رہے ۔۔ ڈر لگا۔ لیکن نہ تو وہ پہلی گولی تھی نہ آخری ۔

حکمران پارٹی کے صدر کے اس بیان کو بھی اہمیت نہ ہی دی جائے تو بہتر ہے کہ ایمرجنسی تین ہفتوں میں اُٹھا لی جائے گی۔انہیں تو یہ بھی اوپر سے پوچھنا پڑتا ہے کہ وہ باقاعدہ وزیر اعظم بن چُکے ہیں یا نگران ہی ہیں۔ مگر یہ بات اُن کی ٹھیک ہے کہ سیاست میں بیان دینا اور واپس لینا جائز ہے۔ اگلے روز کے اخبار کا انتظار کیجئے شاید کوئی نیا بیان آ جائے۔ اخبار کے علاوہ عوام کے پاس حقائق جاننے کے لیے کوئی اور ذریعہ تو ہے نہیں۔ نجی چینلز ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے چکر میں حد سے زیادہ آگے بڑھ گئے تھے اور بی بی سی یا سی این این کو نشر کرنے دینا بھی ٹھیک نہیں کیونکہ اُس سے بھی عوام میں بے چینی پھیلے گی اور لوگوں کو بیمار کرنے کا کیا فائدہ؟

میرا مشورہ تو یہ ہی ہے کہ ہمیں ڈرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ بڑوں کا ادب کرنا ہماری تربیت کا حصّہ ہے۔

ہم حساس لوگ ہیں اور آگے جانے والی گاڑی کے انڈیکیٹر کو بھی حساس ادارے کی گاڑی کا انڈیکیٹر سمجھ بیٹھے ہیں۔ہمیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔سب اچھا ہے۔روٹی بھی ہے، کپڑا بھی ہے اور سر چھپانے کی جگہ بھی۔ تو پھر کمی کیا ہے؟ اور جن کے پاس یہ نہیں ہے تو وہ خود کشیاں کر تو رہے ہیں، پھر پریشانی کی کیا بات ہے؟

ایسی فلمیں جن میں پیار محبت، امن و آشتی کو فروغ ملے نہیں چلنی چاہیں، عوام کو اپنی بھڑاس نکالنا ہے اور فلم میں کسی مظلوم کے ہاتھوں ظالم کے سینے کو کلاشنکوف سے چھلنی کرنے سے ہی نکلےگی اور ثقافت سے روایت بننتی ہے اور روایت سے روزمرہ کی زندگی کا معمول۔ جب غیر حقیقی موت روزمرہ کا معمول ہو تو ڈرنا نہیں چاہیے۔موت سے کیا ڈرنا اُسے تو آنا ہی ہے۔

لیکن پھر بھی ڈر لگتا ہے۔

غالب صاحب آپ اکیلے نہیں ہیں۔ نیند کئی لوگوں کو رات بھر نہیں آتی۔مگر رات کو اگر چوسر کھیل رہے ہوں تو خیال رکھئیے گا افراد تین ہی ہوں۔ چار ہونگے تو ۔۔۔۔۔

اسی بارے میں
سیّد بادشاہ کا کارڈ
12 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد