چودھری ہی اصل چیف جسٹس:بی بی، صحافیوں، وکلاء کا احتجاج جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور میڈیا بلیک آؤٹ پر وکلاء کی جانب سے عدالتی بائیکاٹ اور صحافیوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ادھر ایک روزہ نظر بندی کے بعد سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے سنیچر کی شام کو غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کی ہے۔ ادھر امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہیں صدر پرویز مشرف پر اعتماد نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ صدر مشرف اور بینظیر بھٹو دونوں القاعدہ کے خطرے کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ غیر ملکی سفیروں سے ملاقات سے قبل بینظیر نے سنیچر کی صبح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے انہیں ججز کالونی جانے روک دیا تھا۔اس موقع پر بینظیر نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ جسٹس افتخار چودھری ہی پاکستان کے اصل چیف جسٹس ہیں۔ ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق بینظیر بھٹو اچانک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوئیں لیکن پولیس نے انہیں جسٹس چودھری کی رہائش گاہ سے دو سو گز کے فاصلے پر سڑک میں رکاوٹیں کھڑی کرکے روک دیا۔
اسلام آباد میں پولیس نے جب بینظیر بھٹو کو روکا تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس انہیں جسٹس افتخار چودھری سے ملنے جانے سے روک رہی ہے لیکن وادی سوات میں مولانا فضل اللہ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ اس سے قبل بینظیر بھٹو نظر بندی کے حکم کی واپسی کے بعد اسلام آباد میں اپنے گھر سے نکل کر پارٹی سیکرٹیریٹ پہنچ گئیں جہاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ان سات خواتین ارکان اسمبلی کو بھی رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ روز راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف حصوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ صحافیوں کا احتجاج
اسلام آباد میں درجنوں صحافیوں نے پرائیویٹ ٹی وی چینل کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا اور بعدازاں پاکستان پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے دفتر تک پیدل مارچ کیا۔احتجاجی صحافیوں نے کالی جھنڈیاں اٹھا رکھی تھیں اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور صحافت کی آزادی کے حق میں نعرہ لگارہے تھے۔ عدالتی معمولات تعطل کا شکار کراچی میں وکلاء برادری نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھا۔ وکلاء کی قیادت جو اب تک گرفتار نہیں ہوئی اتوار کو اپنے اجلاس کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اجلاس اتوار سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں سنیچر کو پولیس اور رینجر کی بھاری نفری عدالتِ عالیہ کے دونوں داخلی دروازوں پر تعینات تھی تاکہ وکلاء کی جانب سے کسی بھی ممکنہ احتجاج کو ناکام بنایا جا سکے۔
راولپنڈی میں ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر انتظار مہدی کو پولیس نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیا۔ اسلام آباد ضلع کچہری میں وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور قرارداد مذمت منظور کی، ملتان میں ضمانت پر رہا ہونے والے بارہ وکیلوں میں سے تین کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ فیصل آباد میں عدالتیں بند اور وکیل غیر حاضر رہے۔گوجرانوالہ اور ارد گرد کے اضلاع میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاریاں جاری رہیں۔لاہور میں کل رات اسی کے قریب سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ایمرجنسی اٹھانے کا عندیہ |
اسی بارے میں سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان بان کی مون پر پاکستان ناراض07 November, 2007 | پاکستان چیف الیکشن کمشنر بھی سرگرم07 November, 2007 | پاکستان سندھ میں ہڑتال، وکلاء کی گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان08 November, 2007 | پاکستان میڈیا پابندیاں، احتجاج کا اعلان07 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||