ڈپٹی اٹارنی جنرل نے استعفیٰ دے دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل یاور علی خان مستعفی ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنا استعفیٰ وفاقی سیکرٹری قانون کے ذریعے صدرِ پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے یاور علی خان نے کہا کہ ’میں نے استعفیٰ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر دیا ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عدلیہ کے خلاف حکومتی اقدامات پر بطور احتجاج مستعفی ہوئے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس بارے میں مزید کچھ نہیں بتانا چاہتے۔ انہوں نے انٹرویو یا بیان دینے سے انکار کر دیا۔ یاور علی خان پاکستان کے سابق چیف جسٹس یعقوب علی مرحوم کے صاحبزادے اور سپریم کورٹ کے جج خلیل الرحمن رمدے کے برادر نسبتی ہیں۔ خلیل الرحمن رمدے ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔ خلیل الرحمان رمدے دیگر ججوں کی طرح ان دنوں اپنےگھر تک محدود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خاکی وردی والوں نے عملی طور پر انہیں نظر بند کر رکھا ہے۔ یاور علی خان ساڑھے آٹھ برس تک ڈپٹی اٹارنی جنرل رہنے کے بعد ایک سال تک اس عہدے سے فارغ رہے تھے۔ اب ایک سال کے وقفہ کے بعد تین ماہ قبل ہی دوبارہ ڈپٹی اٹارنی جنرل بنے تھے۔ ان کی تعیناتی اٹارنی جنرل ملک قیوم کی تعیناتی کے چند روز بعد ہی عمل میں آگئی تھی۔ نو مارچ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے بعد جب عدلیہ کا بحران شروع ہوا تو ملک بھر میں درجنوں ججوں اور وزارت قانون کے افسران نے اپنے عہدوں سے استعفے دیے تھے۔ عدلیہ کے حالیہ بحران کے ایک دو روز بعد ہی ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد منیر مستفی ہو گئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’جج کسی بھی وقت سرپرائز دے سکتے ہیں‘ 09 October, 2007 | پاکستان ججوں کی بڑی تعدادنےحلف نہیں اٹھایا03 November, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: ایک اور استعفیٰ03 May, 2007 | پاکستان استعفی کون دے گا20 July, 2007 | پاکستان ’استعفیٰ دیا پھر واپس لے لیا‘ 15 March, 2007 | پاکستان ’ججوں کو بھی دھمکایا جاتا ہے‘03 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||