BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 November, 2007, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی:وکلاء کی گرفتاریاں جاری

 جسٹس وجہیہ الدین
عدلیہ کو جڑ سے اٹھا کر پھینک دیا ہے، جسٹس وجہیہ الدین
کراچی میں ہائی کورٹ بار کے دو سابق صدور اختر حسین اور حفیظ لاکھو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

وکلاء کی جنرل باڈی کوخطاب کرنے کے لیے آنے والے صدراتی امیدوار جسٹس (یٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد کو پہلے پولیس نے روک دیا لیکن بعد میں ہائی کورٹ کی عمارت میں جانے کی اجازت دے دی۔

ادھر وکلاء نے جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ کی تجویز سے وکلاء کی مدد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

وکلاء تنظیموں نے منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں مکمل اور سٹی کورٹس میں ایک گھنٹے تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، وکلاء تنظیموں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ سولہ نومبر تک جاری رہےگا۔

وکلاء کی جنرل باڈی کےاجلاس کو خطاب کرنے کے لیےصدارتی امیدوار اور سابق جسٹس وجیہہ الدین احمد ہائی کورٹ پہنچے تو انہیں گیٹ پر روک دیا گیا اور بحث مباحثے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی۔

جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہ الدین احمد کے ساتھ موجود انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو کہا کہ اگر انہیں روکا گیا تو وہ سیدھے پریس کے پاس جائیں گے اور یہ بین الاقوامی سطح پر ایک خبر بن جائےگی کہ ایک سابق چیف جسٹس کو عدالت میں آنے کی اجازت نہیں جس کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔

وکلاء کو خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کا کہنا تھا کہ آئین معطل کرکے جج صحابان کو فارغ کرکے ایسے لوگوں کو رکھا گیا ہے
جو اس کے اہل نہیں ہوسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مارشل لاء کا نشانہ عدلیہ ہے، جس نےعدلیہ کو جڑ سے اٹھا کر پھینک دیا ہے، اس وقت ملک کا حال یہ ہے کہ یہاں نہ سپریم کورٹ ہے نہ ہائی کورٹس ہیں، وکلاء، صحافی اور سول سوسائٹی تحریک چلا رہے ہیں۔

جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کی تجویز پر وکلاء کی مدد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس میں کچھ ہی گھنٹوں میں دس لاکھ روپے جمع ہوگئے ہیں۔

جسٹس وجیہہ الدین احمد نے بتایا کہ بہت سارے وکلاء کو بند کیا ہوا ہے، جن میں سے کئی ایسے ہیں جن کے گھروں میں چولہا بھی نہیں جل رہا ہوگا۔

اگر عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے والے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونا ہے تو بہت سارے ایسے وکلا ہیں جن کے پاس کافی جمع پونجی ہے ان پر دو چار ماہ تو کیا دو چار سال بھی کوئی اثر نہیں پڑنے والا مگر ایسے کئی اور خاص طور پر نوجوان وکلاء ہیں جو روزانہ کنواں کھودتے ہیں اور روزانہ پانی پیتے ہیں ان کی مدد کے لیے یہ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ہائی کورٹ بار کے منتخب نمائندوں کی گرفتاری کے بعد وکلاء تحریک کو سرگرم کرنے میں مصروف سابق صدر اختر حسین اور حفیظ لاکھو کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سینئر وکیل حفیظ لاکھو کو منگل کے روز ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا اور اختر حسین کوگزشتہ شب گلشن اقبال سے ان کے گھر سے ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ڈوگرحلف کا نمبر گیم
انتالیس ججوں نے حلف نہیں لیا 48 نے لے لیا
سپریم کورٹ کے جج(فائل فوٹو)غلامی پر ضمیر بھاری
’عدلیہ کی اکثریت کیلیے ضمیر کی آواز اہم ہے‘
گورنر سرحد گورنر سرحد نے کہا
مغویوں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
اسی بارے میں
سندھ: عدالتوں میں مقدمے خارج
09 November, 2007 | پاکستان
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے
05 November, 2007 | پاکستان
معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘
07 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد