کراچی:وکلاء کی گرفتاریاں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ہائی کورٹ بار کے دو سابق صدور اختر حسین اور حفیظ لاکھو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وکلاء کی جنرل باڈی کوخطاب کرنے کے لیے آنے والے صدراتی امیدوار جسٹس (یٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد کو پہلے پولیس نے روک دیا لیکن بعد میں ہائی کورٹ کی عمارت میں جانے کی اجازت دے دی۔ ادھر وکلاء نے جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ کی تجویز سے وکلاء کی مدد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ وکلاء تنظیموں نے منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں مکمل اور سٹی کورٹس میں ایک گھنٹے تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، وکلاء تنظیموں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ سولہ نومبر تک جاری رہےگا۔ وکلاء کی جنرل باڈی کےاجلاس کو خطاب کرنے کے لیےصدارتی امیدوار اور سابق جسٹس وجیہہ الدین احمد ہائی کورٹ پہنچے تو انہیں گیٹ پر روک دیا گیا اور بحث مباحثے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہ الدین احمد کے ساتھ موجود انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو کہا کہ اگر انہیں روکا گیا تو وہ سیدھے پریس کے پاس جائیں گے اور یہ بین الاقوامی سطح پر ایک خبر بن جائےگی کہ ایک سابق چیف جسٹس کو عدالت میں آنے کی اجازت نہیں جس کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔ وکلاء کو خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کا کہنا تھا کہ آئین معطل کرکے جج صحابان کو فارغ کرکے ایسے لوگوں کو رکھا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس مارشل لاء کا نشانہ عدلیہ ہے، جس نےعدلیہ کو جڑ سے اٹھا کر پھینک دیا ہے، اس وقت ملک کا حال یہ ہے کہ یہاں نہ سپریم کورٹ ہے نہ ہائی کورٹس ہیں، وکلاء، صحافی اور سول سوسائٹی تحریک چلا رہے ہیں۔ جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کی تجویز پر وکلاء کی مدد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس میں کچھ ہی گھنٹوں میں دس لاکھ روپے جمع ہوگئے ہیں۔ جسٹس وجیہہ الدین احمد نے بتایا کہ بہت سارے وکلاء کو بند کیا ہوا ہے، جن میں سے کئی ایسے ہیں جن کے گھروں میں چولہا بھی نہیں جل رہا ہوگا۔ اگر عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے والے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونا ہے تو بہت سارے ایسے وکلا ہیں جن کے پاس کافی جمع پونجی ہے ان پر دو چار ماہ تو کیا دو چار سال بھی کوئی اثر نہیں پڑنے والا مگر ایسے کئی اور خاص طور پر نوجوان وکلاء ہیں جو روزانہ کنواں کھودتے ہیں اور روزانہ پانی پیتے ہیں ان کی مدد کے لیے یہ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ہائی کورٹ بار کے منتخب نمائندوں کی گرفتاری کے بعد وکلاء تحریک کو سرگرم کرنے میں مصروف سابق صدر اختر حسین اور حفیظ لاکھو کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سینئر وکیل حفیظ لاکھو کو منگل کے روز ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا اور اختر حسین کوگزشتہ شب گلشن اقبال سے ان کے گھر سے ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں سندھ: عدالتوں میں مقدمے خارج09 November, 2007 | پاکستان سندھ وکلاء اجلاس، گرفتار وکلاء رہا12 November, 2007 | پاکستان ’جیلوں میں وکلاء پر تشدد ہو رہا ہے‘08 November, 2007 | پاکستان اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے05 November, 2007 | پاکستان ضلعی عدالتوں کا تین روزہ بائیکاٹ 07 November, 2007 | پاکستان معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘07 November, 2007 | پاکستان ’سوات میں غیر ملکی موجود ہیں‘31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||