سندھ: عدالتوں میں مقدمے خارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمر جنسی کے خلاف بطور احتجاج سندھ کی عدالتوں میں پیش نہ ہونے والے کئی وکلاء کے مقدمات خارج کردیے گئے ہیں۔ ادھر وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے تیس سے زائدساتھیوں کو سنٹرل جیل سے لانڈھی جیل منتقل کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ میں وکلاء تنظیموں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کی وجہ سے وکلاء کی ایک بڑی تعداد عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے کئی مقدمات خارج کردیےگئے ہیں۔ ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اختر حسین کا کہنا ہے کہ ماضی میں جج اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ کسی وجہ سے وکیل نہیں آئے ہیں تو نئی تاریخ لگا دیں لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ موجودہ جج خصوصی ہدایت لیکر بیٹھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء کو اپنے موکلوں سے کہنا چاہئیے کہ وہ خود عدالتوں میں جاکر پیش ہوں اور عدالت سے مہلت طلب کریں تاکہ وہ اور کوئی وکیل کرسکیں ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں معمول کی کارروائی جاری ہے۔ وزارت داخلہ سے وابستہ مشیر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس میں وکلاء معمول کے مطابق پیش ہو رہے ہیں اور جج صاحبان مقدمات نمٹا رہے ہیں۔ ہائی کورٹ بار کا کہنا ہے کہ جیل میں کچھ بزرگ وکلاء کی طبیعت ناساز ہے اور انہیں دوائیں اور طبی امداد فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ مسٹر اختر حسین کا الزام ہے کہ وکلاء کی لانڈھی جیل منتقلی کا مقصد ’وکیلوں کو ان کے اہل خانہ سے دور رکھنا اور ان پر تشدد کرنا ہے۔‘ دوسری جانب جیل حکام نے ان الزامات پر تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ |
اسی بارے میں تیرہ افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ08 November, 2007 | پاکستان گرفتار وکلاء سے ملاقات کی اجازت08 November, 2007 | پاکستان سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری08 November, 2007 | پاکستان سندھ: وکلاء کا احتجاج ،گرفتاریاں05 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||