بازار حصص میں مندی کا رحجان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے بازارِ حصص میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مندی کا رُجحان جمعرات کے روز شدت اختیار کر گیا اور مارکیٹ تقریباً تین سو اٹھاسی پوائنٹ کی کمی کے ساتھ بند ہوئی۔ سیشن کے دوران ایک موقع پر مارکیٹ چار سو پچانوے پوائنٹ تک نیچے آگئی تھی۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کی صورتحال اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کے بعد سے بگڑنا شروع ہوئی تھی۔ مندی کے رواں رجحان کے دوران یوں تو مجموعی طور پر مارکیٹ آٹھ سو پوائنٹ نیچے گری مگر اُتار چڑھاؤ کا رجحان دو ہزار تک گیا جس سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے سابق ڈائریکٹر اور ایسٹرن کیپیٹل کے چیئرمیں مُنیر لدھا کا کہنا ہے کہ اسٹاک ایکسچنج کی موجودہ صورتحال کی ایک وجہ ملک میں امن و امان کی مخدوش صورتحال ہے۔ ان کے مطابق خودکش حملوں سے سرمایہ کار، بالخصوص غیر ملکی سرمایہ کار متاثر ہورہے ہیں جبکہ مارکیٹ میں مندی کی دوسری اہم وجہ سپریم کورٹ میں زیرِسماعت مقدمات ہیں جن میں سابق وزیرِ اعظم نوازشریف کو ملک سے واپس بھیجنے، صدر مشرف کا انتخاب اور قومی مفاہمتی آرڈیننس کے معاملات شامل ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کے بعد ہی ملک کے بازارِ حصص کی صورتحال واضع ہوگی لیکن آنے والےہفتوں میں مارکیٹ کی صورتحال ایسی ہی رہنے کا امکان ہے۔ منیر لدھا نے کہا کہ اس ساری صورتحال پر سرمایہ کاروں کی نظر ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ایسے مواقعوں پر فروخت کے رجحان میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کا براہ راست اثر مارکیٹ پر ہوتا ہے۔ منیر لدھا نے کہا کہ جمعہ کی مارکیٹ آنے والے پورے ہفتے کے لیے اہم ہوگی۔ اگر مارکیٹ تیرہ ہزار آٹھ سو سے کم پر بند ہوئی تو فروخت کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ |
اسی بارے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر30 October, 2007 | پاکستان حصص بازار، شدید مندی برقرار16 August, 2007 | آس پاس بازار حصص میں تیزی، روپے کی مضبوطی پر تشویش27 September, 2007 | انڈیا پاکستانی ادارے عالمی منڈی میں 20 January, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||