BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 September, 2007, 07:42 GMT 12:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بازار حصص میں تیزی، روپے کی مضبوطی پر تشویش

بازار حصص
ممبئی سٹاک مارکیٹ نے سترہ ہزار کے انڈیکس کو عبور کر لیا
ممبئی کے بازار حصص میں مسلسل اضافے کا دور دورا ہے۔ بازار حصص نے ایک نئی اونچائی حاصل کرتے ہوئے سترہ ہزار کے انڈیکس کو عبور کر لیا ہے۔ تاہم روپے کی مضبوطی نے وزارت خزانہ کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔

بدھ کو بازار حصص میں زبردست تیزی آئی اور صرف چھ روز کے اندر ایک ہزار کا اضافہ درج کیا گیا۔ یہ اب تک کا سب سے تیز اضافہ ہے جبکہ پندرہ ہزار سے سولہ ہزار تک کا سفر طے کرنے میں اکاون کاروباری دن لگے تھے۔

بازار حصص میں زبردست اضافہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستانی بازار میں پیسہ لگانے کے سبب ہو رہا ہے۔ اس سال کے شروع سے اب تک غیر ملکی سرمایہ کاروں نے دس ارب ڈالر کی رقم ہندوستانی بازار میں لگائی ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ نے سود کی شرح میں کمی کی ہے اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ مزيد غیر ملکی زرمبادلہ ہندوستانی بازار میں آئےگا۔

ہندوستان کے بازار حصص میں زبردست اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے اقتصادی تجزيہ کار ایم کے وینو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’امریکی معیشت میں ڈالر کی قیمت کم ہو رہی ہے اور امید کی جا رہی کہ آنے والوں وقتوں میں اس میں مزید کمی آئے گی اس لیے مغربی ممالک کے بڑے سرمایہ کار ایشائی ممالک کے بازار خاص کر ہندوستانی بازار میں اپنا پیسہ لگا رہے ہيں جس کے باعث ملکی بازار میں زرمبادلہ بہت آ رہا ہے اور اس سے بازار حصص میں تیزی آ رہی ہے‘۔

دوسری جانب وزیر خزانہ پی چدمبرم نے روپے کی مضبوطی پر تشویس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے پریشانی لاحق ہے کیوں کہ روپیے کی مضبوطی سے برآمداد کنندگان کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے‘۔

بقول مسٹر چدمبرم ’برآمداد کنندگان کو گزشتہ مہینے وزارت نے بعض خاص سہولتیں دیں تھیں اور اگر اس سے ان کو فائدہ نہیں پہنچا تو مزید راستے بھی تلاش کیے جائیں گے تاکہ رواں سال کے باقی مہینوں میں روپے کی مضبوطی سے ہونے والے نقصان سے نمٹا جاسکے‘۔ تاہم وزير خزانہ کا کہنا ہے کہ برآمداد کنندگان کو درمیانی اور طویل مدت کے لیے برآمد ہونے والی ایشیاء کی قیمتوں کو ایسا رکھنا چاہیے کہ وہ بازار میں جاری زرمبادلہ کے حساب سے متاثر نہ ہوں جائیں اور نقصان سے بچ سکیں۔

 ستر کے عشرے میں جب جاپان، جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک میں معاشی ترقی ہوئی تو ان ممالک کی کرنسی بھی مضبوط ہوئی تھی
ایم کے وینو، تجزيہ کار

تجزيہ کار مسٹر وینو روپے کی مضبوطی کو غیر متوقع نہيں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کسی ملک کی پیداوار بڑھتی ہے تو اس ملک کی کرنسی بھی مضبوط ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ تبدیلی ہندوستان میں ہوئی ہے جو درست اور مناسب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ستر کے عشرے میں جب جاپان، جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک میں معاشی ترقی ہوئی تو ان ممالک کی کرنسی بھی مضبوط ہوئی تھی‘۔

مسٹر وینو کا کہنا ہے کہ ’موجودہ رجحان سے ان برآمداد کنندگان کو نقصان ہوگا جو ڈالر میں کاروبار کرتے ہيں لیکن یہ رجحان وقتی ہے اور برآمداد کنندگان اپنا نقصان بہتر بنیادی ڈھانچے اور مقامی قیمت کو کم کر کے نہ ہونے کے برابر کرسکتے ہيں‘۔

ماہر اقتصادیات بھرت جھن جھن والا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ اس رجحان سے برآمداد کنندگان کو نقصان ہوگا لیکن اس سے مجموعی طور پر ملک کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ ا ن کا کہنا ہے کہ جب ہندوستانی روپیہ مضبوط ہوگا تو اس سے عالمی زرمبادلہ ہندوستان آئے گا اور معیشت مضبوط ہوگی۔ جب غیر ملکی زرمبادلہ ہمارے ملک میں آئے گا تو برآمداد ميں کمی آئے گی اس لیے روپے کی مضبوطی کے باوجود نقصان کم ہوگا اور غیر ملکی سرمائے سے ملک میں بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مضبوطی کے سبب سب سے زيادہ نقصان سوفٹ ویئر سیکٹر کو ہوگا کیوں کہ ہندوستان میں سوفٹ ویئر کی پیداوار کا ساٹھ فیصد حصہ برآمداد کیا جاتا ہے لیکن سٹیل اور جیولری سیکٹرز کو اس سے فائدہ ہوگا۔

اس وقت ایک ڈالر کی قیمت تقریباً انتالیس روپے ہے۔ مسٹر وینو کا کہنا ہے کہ غیر ملکی زرمبادلے کی ہندوستانی بازار میں آمد سے بازار حصص میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر روپیہ مزيد مضبوط ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر ڈالر اور روپے میں موجودہ تناسب بنا رہتا ہے تو اس سے پریشانی نہيں ہوگی اور اگر ڈالر مزید کم ہو کر سینتیس، اڑتیس روپے کے برار ہو جاتا ہے تو یہ قابل تشویش ہے۔

ہندوستان دنیا کی ایک بڑی معیشت کے طور پر ابھر رہا ہے اور یہاں ترقی کی شرح تقریباً نو فیصد ہے۔

سٹاک مارکیٹ مندی
ممبئی کا حصص بازار ایک بار پھر لڑکھڑا گیا ۔
سٹاک ایکسچینجحبیب بنک کا ذکر
بھارت: شدت پسندوں تک رقم پہنچنے کے راستے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد