ممبئی سٹاک مارکیٹ میں مندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی طور پر قرضوں کی عدم دستیابی کے خوف سے پیدا ہونے والی صورتحال کے سبب ہندوستان کے حصص بازار پر اگرچہ فی الوقت کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات نظر آ سکتے ہیں۔ جمعہ کو دنیا کے بڑے حصص بازاروں میں شدید مندی نظر آئی اور یہی رجحان بھارتی بازار میں بھی دکھائی دیا۔ جمعہ کی صبح بامبے سٹاک ایکسچینج تجارتی بازار میں سنسکس 500 پوانٹس کم پر کھلا اور شام ہوتے ہوتے اس میں مزید 231.90 کی گراوٹ آگئی۔ کل ملا کر گزشتہ روز کے مقابلے میں بازار میں 1.5 فیصد کی کمی درج کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حصاص بازار پر اثر پڑتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ برآمدات کرنے والی کمپنیوں کو ہو سکتا ہے۔ خصوصاً ان کمپنیوں کو جو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کپڑے کی صنعت سے متعلق ہیں۔ حصص بازار کے ماہر جیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ’جمعہ کو بازار میں گراوٹ دیکھی گئی تھی لیکن ایسے حالات گزشتہ دو تین ہفتے سے جاری ہیں اور بازار کبھی اورپر اور کبھی نیچے جا رہا ہے۔‘ عالمی طور پر قرضوں کی عدم دستیابی کے خوف سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بھارت کے حصص بازار پر اثرات کے بارے میں مسٹر دیسائی نے کہا تھا کہ فی الوقت یہ اثرات نمایاں طور پر نظر نہيں آ رہے ہيں لیکن آنے والے دنوں ميں حالات نازک ہو سکتے ہیں کیونکہ بھارتی بازار میں زیادہ تر بیرونی ممالک کی کمپنیوں کی ہی سرمایہ کاری ہے۔ بھارت کی معیشت نو فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے ۔ بھارت ان ممالک میں شامل نہیں ہے جسے قرضوں کی عدم دستیابی جیسی پریشانیوں کا سامنا ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالانکہ موجودہ صوتحال نازک ہے لیکن حالات معمول پر آتے ہی ایشیائی بازار میں آہستہ آہستہ تیزی آنے کے امکانات نظر آر ہے ہیں۔ | اسی بارے میں بھارتی حصص، دس ہزار کاانڈیکس پار06 February, 2006 | انڈیا کراچی بازار حصص میں شدید مندی02 April, 2007 | پاکستان ممبئی اسٹاک، ریکارڈ اضافہ08 September, 2005 | انڈیا شیئر بازار میں زبردست گراوٹ22 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||