BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 May, 2006, 11:00 GMT 16:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیئر بازار میں زبردست گراوٹ

شیئر بازار میں گراوٹ اب تک کی سب سے بڑی ہے
پیر کی صبح ممبئی کے شیئر بازار میں زبردست گراوٹ سے سرمایہ کاروں میں کھلبلی مچ گئی اور شیئر بازار کے ماہرین کے مطابق ایک گھنٹہ میں بازار کو تین ہزار کروڑ روپیہ کا خسارہ جھیلنا پڑا۔ پیر کی صبح جب بازار کا کام کاج شروع ہوا تو سینسیکس 357 پوائنٹ تک گر چکا تھا اور شیئر بازار میں پیسہ لگانے والوں نے اسے ’بلیک منڈے‘ قرار دے دیا۔

اس کے مدنظر ایک گھنٹہ کے لیئے شیئر بازار میں ٹریڈِنگ معطل کردی گئی اور دلی میں بھی حالات پر قومی سٹاک ایکسچنج میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ٹریڈِنگ معطل کرنی پڑی۔ اس وقت ممبئی شیئر بازار 9.826.91 پوائنٹس پر تھا اور نیشنل اسٹاک ایکسچنج 896.45 تک پہنچ گیا تھا۔

انڈیا کے وزیر خزانہ پی چدامبرم نے سرمایہ کاروں سے کہا ہے کہ وہ نہ گھبرائیں اور بازار جلد ہی سنبھل جائے گا۔ بازار میں اس بڑی گراوٹ کے پیش نظر پی چدامبرم نے ہنگامی طور پر افسران کی ایک میٹنگ طلب کر لی ہے۔

دریں اثناء ریزرو بینک آف انڈیا نے بینکوں کو خسارہ سے بچانے کے لیئے انہیں فنڈ مہیا کرانے کی پیشکش کی ہے۔ ساتھ ہی وزیر خزانہ کی یقین دہانی کے بعد شیئر بازار تھوڑا بہتر ہوا۔

گراوٹ کی وجہ حکومتی سرکیولر؟
 بازار میں اس تیزی کے ساتھ گراوٹ کی ذمہ داری بہت حد تک حکومت کے اس سرکیولر کو جاتی ہے جسے سینٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکسیس نے جاری کیا تھا جس کے مطابق سرمایہ کاروں کو اپنے منافع پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
شیئربازار کے ماہرین
لڑکھڑاتے بازار نے ایک طرف چھوٹے سرمایہ کاروں میں زبردست کھلبلی پیدا کر دی ہے تو دوسری جانب بڑے سرمایہ کاروں میں چند ایسے ہیں جو بازار کی اس گراوٹ کا فائدہ اٹھا کر شیئر خریدنے میں لگے ہیں ۔دھاتوں کے داموں اور میچوئل فنڈز میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

چند شیئر دلالوں اور شیئر بازار کے ماہرین کا خیال ہے کہ بازار میں اس تیزی کے ساتھ گراوٹ کی ذمہ داری بہت حد تک حکومت کے اس سرکیولر کو جاتی ہے جسے سینٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکسیس نے جاری کیا تھا جس کے مطابق سرمایہ کاروں کو اپنے منافع پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ایک اعلی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سرکیولر بہت مبہم ہے اس لیئے بہت جلد یہ فیصلہ کرنا کہ بازار میں یہ گراوٹ اس سرکیولر کی وجہ سے ہے، غلط ہے۔

شیئر مارکیٹ کے پرانے تجزیہ نگار شانتی داس مہتہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے بازار کے لڑکھڑانے کا دور 1992میں شروع ہوا تھا جب ہرشد مہتہ کا گھپلا سامنے آیا تھا لیکن اس کی وجہ کچھ اور تھی لیکن اس مرتبہ اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ مہتہ کا کہنا ہے کہ دراصل شیئر مارکیٹ میں یہ زبردست گراوٹ امریکی حکومت کی وجہ سے ہے جو اپنا سونا مارکیٹ میں نکالنی چاہتی تھی۔ ان کے مطابق شیئر بازار میں اس طرح کی گراوٹ صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پورے ایشیاء کا بازار متاثر ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد