بھارت:’شدت پسند بازار حصص میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کے لیے فنڈ جمع کرنے کے لیے مختلف راستے اختیار کر رہی ہیں اور اب منافع کمانے کے لیے یہ تنظیمیں ملک کے حصص بازار میں بھی داخل ہو چکی ہیں۔ اتوار کو مینوخ میں سکیورٹی پالیسی کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر نارائنن نے کہا کہ ’ملک کے ممبئی اور چنئی کے حصص بازاروں میں کئی فرضی کمپنیوں کی جانب سے ہونے والے سودوں کے معاملات سامنے آئے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لیے اب جائز طریقے سے بھی بینکوں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسٹر نارائنن نے کہا کہ متعلقہ ایجنسیوں کو کئی بار معلوم ہوا کہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں سے نکالی یا وہاں جمع کروائی گئی رقم شدت پسند تنظیموں کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور نیپال کے راستے ہندوستان میں نقلی نوٹ بھیجے جاتے ہيں اور ہر برس ایک بڑے مقدار میں انہیں برآمد کیا جاتا ہے۔ مسٹر نارائنن نے یہ بھی کہا کہ امداد کے نام پر کام کرنے والی بعض تنظیموں کے بھی تعلقات شدت پسند تنظیموں سے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کے الرشید ٹرسٹ کا نام لیا جو پہلے کسی دوسرے نام سے سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ شدت پسند تنظیموں تک پیسہ کئی راستوں سے پہنچتا ہے اور اس کام میں پاکستان کا حبیب بینک بھی شامل ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی حصص بازار میں ریکارڈ اضافہ01 December, 2004 | انڈیا ممبئی اسٹاک، ریکارڈ اضافہ08 September, 2005 | انڈیا انڈیا: ریکارڈ شرح ترقی کی امید07 February, 2007 | انڈیا گوگل نے ہندوستان کی بات مان لی06 February, 2007 | انڈیا تشدد کے خوف میں قومی کھیل10 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||