BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 February, 2007, 00:48 GMT 05:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد کے خوف میں قومی کھیل
بھارت کے قومی کھیلوں کا افتتاح
کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے دِلی، مہاراشٹر، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، بہار کے علاوہ کئی ديگر ریاستوں کے کھلاڑی آسام پہنچ چکے ہیں۔
ہندوستان کے تینتیسویں قومی کھیل کا جمعہ کو شمالی مشرقی ریاست آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں افتتاح ہوا۔

آسام میں علیحدگی پسند تنظیم الفا کے شدت پسند کے حملوں کے ڈر کی وجہ سے کھیلوں کے دوران حفاظتی انتظامات سخت ہیں۔

گوہاٹی میں جمعہ سے شروع ہونے والے قومی کھیلوں میں ملک کی انتیس ریاستوں سے تیتیس ٹیمیں اور کم از کم دس ہزار سے زائد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ کھیلوں کا افتتاح حکمران جماعت کانگریس پارٹی کی صدر نے کیا۔

گوہاٹی پہنچ کر سونیا گندھی نے ملک کے شمال مشرقی ریاستوں میں جاری ’شدت پسندی‘ کی تحریک کےلیے ’بیرونی طاقتوں‘ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خواتین سے تشدد کے خلاف ایک تحریک شروع کرنے کے لیے کہا۔

محترمہ گاندھی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ’دہشتگردی‘ کا راستہ اختیار کر لیاہے ان لوگوں کے لیے واپسی کے تمام دروازے ہمیشہ سے کھلے ہوئے ہيں۔

تشدد کا خوف
 ان کھیلوں میں حصہ لینے کے دس ہزار سے زائد کھلاڑیوں کی آمد متوقع ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کے ڈر سے سب کھلاڑی آسام نہیں پہنچ سکےگیں۔

گزشتہ ماہ آسام کے کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں آسام میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم الفا نے ہندی بولنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ الفا نے دھمکی دی تھی کہ وہ قومی کھیل نہیں ہونے دے گی۔ لیکن اس نے بعد میں احتجاج واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ الفا نے اپنا احتجاج واپس لے لیا ہے لیکن اس کے باوجود ایک کھیلوں کے افتتاح سے چند گھنٹے قبل ایک بم دھماکہ ہوا۔

کھیلوں کے امور کے تجزیہ کار نورس پریتم کا خیال ہے کہ آسام کے حساس حالت سے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر فرق پڑے گا۔ ’ کھلاڑیوں کو اپنی حفاظت کا ڈر ہے اس لیے وہ اپنے کھیل پر پورا دھیان نہیں لگا پائیں گے‘۔

آسام میں پہلی بار قومی کھیلوں کا انعقاد ہورہا ہے۔ کھیلوں کے منتظیمن کے مطابق اسٹیڈیم اور کھلاڑیوں کے ہوٹلوں میں حفاظت کے انتظاما ت سخت ہیں۔ کھیل کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آسام میں کھیل منعقد ہونے سے یہ نقصان ہوا ہے کہ کئی نامور کھلاڑی ان میں حصہ نہیں لے رہے جن میں مشہور اتھلیٹ انجو جارج بھی شامل ہیں۔

کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے دِلی، مہاراشٹر، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، بہار کے علاوہ کئی ديگر ریاستوں کے کھلاڑی آسام پہنچ چکے ہیں۔ ان کھیلوں میں حصہ لینے کے دس ہزار سے زائد کھلاڑیوں کی آمد متوقع ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کے ڈر سے سب کھلاڑی آسام نہیں پہنچ سکےگیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد