آسام، منموہن سنگھ کا دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کی شمال مشرقی ریاست آسام کے دورے میں کہا ہے کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتo نہیں کیا جائے گا۔ ریاست آسام میں وزیر اعظم نےحال میں ہندی بولنے والوں کی ہلاکتوں سے سب سے زیادہ متاثر تنسکیا اور ڈبروگڑھ علاقوں کا دورہ کیا۔ علاقہ کا دورہ کرنے کے بعد وزیر اعظم نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف جائزوں سے یہ ثابت ہوا ہے کہ آسام میں دہشتگردانہ کارروائيوں اور تشدد کا حامی کوئی نہیں ہے اور یہاں کے عوام بھی یونائٹڈ لبریشن فرنٹ یعنی الفاء مخالف حذبات رکھتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا لوگ خوف زدہ زندگی نہیں بلکہ ترقی اور بہتر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ الفاء کے خلاف کارروائی کرنے ميں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت الفاء ہی نہیں بلکہ ان سبھی گروہوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے جوصورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس مہینے کی شروعات میں ریاست آسام کے شمالی علاقوں میں مبینہ طور پر شدت پسندوں نے ستر سے زیادہ ہندی بولنے والے افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ہلاک ہونے والے بیشتر مزدور تھے اور روزی روٹی کی تلاش میں ریاست بہار سے آئے تھے۔ دوسری جانب علحیدگی پسند تنظیم الفاء نے مرکزی حکومت کےساتھ مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ لیکن اس سے قبل انہوں نے بھارتی جیلوں میں قید انکے پانچ اعلی رہنماؤں کی رہائی اور آسام میں فوج کے آپریشنز ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی بی سی کو لکھی گئی ایک ای میل میں الفاء کے ترجمان روبی بھوئیاں نے کہا ہے ’الفاء کے اعلی رہنما بات چیت کے لیے کوشاں ہیں لیکن اس سے قبل پوری تیاری کرنی ضروری ہے اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب جیل میں قید الفاء رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔‘ الفاء کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ الفاء نے پچاس رکنی خودکش حملہ آوروں کا ایک گروپ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گروپ اوپری آسام میں تیعنات کیا جائے گا اور الفاء کے کیڈرز کی ہلاکتوں کا بدلہ لے گا۔ لیکن ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ خودکش حملہ آور کس کو اپنا نشانہ بنائيں گے۔ حال ہی میں الفاء کے جریدے ’فری ڈم‘(آزادی ) میں الفاء نے آسام کے وزیر اعلی اور کانگریس کے رہنما ترن گوکئی پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ آسام کی حزب اختلاف کی جماعتیں اور مقامی گروہوں نے بھی الفاء سے فوجی کارروائی بند کر کے مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن حال ہی میں ریاست آسام کا دورہ کرنے والے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہا تھا کہ فوج الفاء کے خلاف کارروائی میں کوئی کمی نہيں چھوڑے گی۔ مرکزي حکومت اور الفاء کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر میں امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ لیکن اب مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ الفاء کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ |
اسی بارے میں آسام: مشتبہ افراد کی تلاش جاری 09 January, 2007 | انڈیا آسام:ہندی بولنے والوں پر مزید حملے 08 January, 2007 | انڈیا آسام میں چھ پولیس اہلکار ہلاک07 January, 2007 | انڈیا چوبیس گھنٹے، اڑتالیس ہلاکتیں06 January, 2007 | انڈیا آسام: موئراباری میں کرفیو نافذ19 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||