BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 November, 2007, 16:16 GMT 21:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حلف غیر آئینی: سرحد کے برطرف چیف جسٹس

News image
 میں اب بھی پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ہوں اور اگر چاہوں تو اپنی رہائش گاہ پر ہی عدالت لگاکر مقدمات سن سکتا ہوں تاہم میں ایسا نہیں کروں گا
جسٹس طارق پرویز
عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے ’چیف جسٹس‘ طارق پرویز نے کہا ہے کہ تین نومبر کے پی سی او کے تحت حلف لینے والے تمام ججز غیر آئینی طور پر اپنے عہدوں پر فائز ہیں۔

یہ بات انہوں نے پشاور میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہی۔


طارق پرویز کا کہنا تھا کہ تین نومبر کو سپریم کورٹ کے ایک سات رکنی بنچ نے سپریم کورٹ اور چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سمیت تمام ججز اور انتظامیہ کو یہ حکم جاری کیا کہ وہ پی سی او کے تحت نہ حلف لیں اور نہ ہی کسی سے حلف اٹھوائیں۔

ان کے بقول’ چھ بج کر بیس منٹ پر سات رکنی بنچ میں شامل ایک جج نے سپریم کورٹ کی عمارت سے مجھے فون پر اس فیصلے سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد میں نے پشاور ہائی کورٹ کے بعض ججوں کو ذاتی اور چند کو اپنے سیکریٹری کے ذریعے اس فیصلہ سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں پی سی او کے تحت حلف لینے سے منع کردیا تھا‘۔

طارق پرویز کا مزید کہنا تھا کہ اس حکم کے بعد سپریم کور ٹ اور چاروں ہائی کورٹس میں موجود جن جج صاحبان نے پی سی او کے تحت حلف لیا ہے، ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے کیونکہ بقول ان کے انہوں نے عدالتی فیصلے سے روگردانی کی ہے۔

ان کے مطابق’ ایمر جنسی کے نفاذ کے اگلے روز سپریم کورٹ کے قائم مقام رجسٹرار نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ عدالت کے ریکارڈ پر سات رکنی بنچ کا ایسا کوئی بھی فیصلہ موجود نہیں ہے اور اس کے بعد حکومتی ترجمان اور شاید اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بھی اس قسم کے کسی فیصلے کے وجود سےانکار کیا تھا مگر دو دن کے بعد آٹھ رکنی بنچ نے ملک قیوم کے دلائل سنے اور بعد میں انہوں نے سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ فیصلہ موجود تھا۔ لہذا اس فیصلے کے تحت جج صاحبان کا حلف غیر آئینی ہے‘۔

 میرے بارے میں مشہور ہے کہ کام کرنا میری بیماری ہے مگر سات دن سے کام نہ کرنے کی وجہ سے اب مجھے جیل میں پڑے ان بعض قیدیوں کا دکھ ستاتا ہے جو میرے کام نہ کرنے کی وجہ سے آزاد نہیں ہوسکے ہیں
جسٹس طارق پرویز

طارق پرویز کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور اگر چاہیں تو اپنی رہائش گاہ پر ہی عدالت لگاکر مقدمات سن سکتے ہیں تاہم وہ ایسا نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ’برطرف‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ان کے ٹیم لیڈر ہیں اور وہ پشاور ہائی کورٹ کے’ چیف جسٹس‘ کی حیثیت سے پاکستان کی بقاء اور عدلیہ کی آزادی کی خاطر ان کے احکامات کے اب بھی منتظر ہیں۔

طارق پرویز نے سن دو ہزار میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد عبوری آئینی حکم کے تحت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں اس دفعہ حلف اٹھانے سے انکار کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پچھلی مرتبہ انہوں نے پی سی او کو مختصرعرصے تک ایک نافذ شدہ قانون سمجھ کر ٹیکنیکل بنیادوں پر حلف لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس مرتبہ بیس جولائی کو سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے افتخار محمد چودھری کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان بحالی کا جوتاریخی فیصلہ سنایا اس کے تناظر میں انہوں نے عدلیہ کو آزاد ہوتے دیکھ کرحلف لینے سے انکار کردیا ہے۔

ان کے مطابق’ بیس جولائی کے فیصلے کے بعد سولہ کروڑ عوام میں آزاد عدلیہ کی ایک امید پیدا ہوگئی تھی اور اگر اس بار بھی میں پی سی او کے تحت حلف اٹھاتا تو یہ سولہ کروڑ عوام کے جذبات کی نفی اور ان کے ساتھ ایک بہت بڑا دھوکہ ہوتا۔ پچھلی مرتبہ محض چند ججوں نے حلف لینے سے انکار کردیا تھا مگر اس دفعہ ستر فیصد سے زیادہ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا‘۔

 سپریم کورٹ کے ’برطرف‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہماری ٹیم کے لیڈر ہیں اور میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے پاکستان کی بقاء اور عدلیہ کی آزادی کی خاطر ان کے احکامات کا اب بھی منتظر ہوں
جسٹس طارق پرویز

ان سے پوچھا گیا کہ کیا پچھلی مرتبہ عدلیہ غلام تھی کہ آپ نے سولہ کروڑ عوام کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیکنیکل بنیادوں پر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کو ترجیح دی تو ان کا کہنا تھا: ’ نہیں اس وقت بھی عدلیہ غلام نہیں تھی مگر عوام میں یہ تاثر عام تھا کہ عدلیہ حکومت وقت کی منشاء کے مطابق فیصلے کر رہی ہے لیکن اس دفعہ ہم نے اس تاثر کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بحیثیت’ چیف جسٹس‘ وہ کسی بھی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتے تاہم پاکستان کے ایک شہری کے طور پر وہ آزاد عدلیہ کے لیے چلائی جانے والی کسی بھی تحریک کی تعریف کریں گے۔

طارق پرویز کو اگر چہ گرفتار نہیں کیا گیا ہے تاہم وہ گزشتہ سات دن سے اپنے گھر پر ہی مقیم ہیں۔ ان کے مطابق’ میرے بارے میں مشہور ہے کہ کام کرنا میری بیماری ہے مگر سات دن سے کام نہ کرنے کی وجہ سے اب مجھے جیل میں پڑے ان بعض قیدیوں کا دکھ ستاتا ہے جو میرے کام نہ کرنے کی وجہ سے آزاد نہیں ہوسکے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ گھر پر کتابیں اور اخبارات پڑھنا ان کا مشغلہ ہے۔’اب تو میں اخبارات کے اداریے تو کیا اشتہارات اور ٹینڈر نوٹس بھی پڑھ لیتا ہوں‘۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی افواج پاکستان کی تجارتی اور اقتصادی مفادات کے بارے میں لکھی گئی کتاب’ ملٹری انکار پوریٹڈ‘ اس وقت جسٹس طارق پرویز کے زیر مطالعہ ہے جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ’ اس کتاب کو پڑھنے کی مجھے زیادہ ضرورت اس لیے نہیں ہے کیونکہ میری عمر ساٹھ سال ہے اور میں خود ان تمام چیزوں کا گواہ ہوں تاہم اس میں حقائق کو یکجا کرکے ایک کتابی صورت دی گئی ہے‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ کتاب پڑھنے کے دوران فوج کے کردار کے بارے میں آپ کا کیا تاثر بنا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ’ میں خود کو چیف جسٹس سمجھتا ہوں لہذا ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس سے سیاسی پہلو نمایاں ہو‘۔

 رانا بھگوان داس’آج بھی جج ہوں‘
’پیر کوعدالت جاؤں گا، پی سی آو غیر آئینی ہے‘
جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی حکومت کی’ آفرز‘
پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر کئی پیشکشیں
افتخار چودھری’میں آج بھی جج ہوں‘
جسٹس افتخار: بی بی سی سے خصوصی انٹرویو
مشرف’ججوں کا سرپرائز‘
’صدر مشرف کے سر پر لٹکتی عدالتی تلوار‘
سپریم کورٹایمرجنسی کی حیثیت
ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان
بی بی سی اردو: خصوصی پروگرامخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
اسی بارے میں
’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘
08 November, 2007 | پاکستان
معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘
07 November, 2007 | پاکستان
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے
05 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد