BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جج،جنرل آئین سے بغاوت کے مرتکب‘

جسلٹس وجیہہ
’بائیسویں گریڈ کے چیف آف آرمی سٹاف کو آئین میں ترمیم کا حق نہیں‘
پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق جج اور صدارتی انتخابات میں جنرل مشرف کے مقابل امیدوار ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے تمام جج اور جنرلوں کو آئین سے غداری کی پاداش میں سزا دی جا سکتی ہے۔

جسٹس وجیہہ الدین نے یہ بات اتوار کی دوپہر نیویارک میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’ڈاکٹرز فار ڈیموکریسی اینڈ جسٹس‘ کی طرف سے پاکستان میں ایمرجنسی اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف منعقدہ ایک تقریب سے ٹیلفونک خطاب کے بعد سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہی۔

جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والے جج آئین سے بغاوت کے مرتکب ہیں جس پر انہیں آئین کی دفعہ چھ اور چھ(الف) کے تحت آئین سے غداری کے جرم میں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

اس سے قبل جسٹس وجیہہ الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ جنرل مشرف سمجھتے تھے کہ ان کے انتخاب اور وردی کے متعلق سنی جانیوالی پٹیشنوں پر فیصلہ ان کے خلاف آ سکتا تھا اور دوسری بڑی وجہ قومی مصالحتی آرڈینینس یا این آر او تھا جس کی آئینی و قانونی حیثیت بھی بہت کمزور تھی اور سپریم کورٹ میں چیلنج کی گئي تھی۔

انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ صدر مشرف کو سپریم کورٹ میں ان کے صدارتی انتخابات کے خلاف پیٹشنز کی سماعت کرنے والے فل کورٹ بینچ کے ججوں میں سے کسی ایک نے بتایا تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف آنے والا تھا۔

 انیس سو اٹھاون سے لے کر بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے تک جتنی بھی فوجی بغاوتیں ہوئی ہیں اس کا براہ راست نشانہ حکومتیں اور پارٹیاں رہی ہیں لیکن تین نومبر کو جنرل مشرف نے خود اپنی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی ہے جس کا نشانہ حکومت کے ادارے عدلیہ اور پارلیمان بنے۔
جسٹس (ر) وجیہہ الدین

جسٹس(ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ’پاکستان اس وقت سخت مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ مہذب ممالک میں جب مسلمہ نظام تہ و بالا کیا جاتا ہے تو اس کا شکار حکومت کے ادارے ہوتے ہیں اور پاکستان میں تین نومبر کے شب خون کا شکار عدلیہ اور آزاد میڈیا ہوا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو اٹھاون سے لے کر بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے تک جتنی بھی فوجی بغاوتیں ہوئی ہیں اس کا براہ راست نشانہ حکومتیں اور پارٹیاں رہی ہیں لیکن تین نومبر کو جنرل مشرف نے خود اپنی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی ہے جس کا نشانہ حکومت کے ادارے عدلیہ اور پارلیمان بنے۔

جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ’ایک بائیسویں گریڈ کے چیف آف آرمی سٹاف کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آئين میں ترمیم لائے اور اس کی شکل بگاڑے۔یہ حق نہ اسے پاکستانی آئین اور نہ ہی آرمی ایکٹ کے تحت حاصل ہے‘۔

انہوں نے کہا جبکہ جنرل مشرف نے پہلے چیف آف آرمی اسٹاف کی حيثیت سے ایمرجنسی کے نفاذ کے حکمنامے پر دستخط کیے اور اب پھر ایمرجنسی ختم کرنے کے اختیارات انہوں نے چيف آف آرمی اسٹاف سے واپس صدر کی طرف منتقل کر دیے ہیں جو آئين کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

ادھر نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے نیویارک سمیت دیگر امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات نے ایمرجنسی اور مشرف حکومت کے خلاف زبردست مظاہرہ بھی کیا۔

1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
جنرل مشرفمیڈیا، عدلیہ کو نکیل
پی سی او کا مقصد ججوں اور میڈیا کو نکیل ڈالنا
صدر مشرفانتخابات کا اعلان
صدر مشرف کی پسپائی یا نئی مورچہ بندی
دباؤ بڑھ رہا ہے
صدر مشرف پربین الاقوامی دباؤ میں اضافہ
عاصمہ جہانگیر’دہشتگردی کا ڈرامہ‘
مشرف دھوکا دے رہے ہیں: عاصمہ جہانگیر
بی بی سی اردو: خصوصی پروگرامخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد