BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 November, 2007, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی: بینچ میں بیٹھنےسے انکار

سپریم کورٹ
جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے فل کورٹ میں شامل تین ججوں نے اس بینچ میں بیٹھنے سے معذوری ظاہر کردی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں حتمی فیصلہ پیر کو کریں گے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق جب کوئی جج کسی بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردے تو اس بینچ کی ازسر نو تشکیل کی جاتی ہے۔

جمعہ کے روز جب ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ میں شامل جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے جن وجوہات کو بنیاد بنایا گیا تھا ان میں سے ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی تھی کہ لال مسجد کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمی نے متعدد شدت پسندوں کو رہا کیا۔

جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ چونکہ وہ اس بینچ میں شامل تھے جس نے لاپتہ ہونے والے افراد اور لال مسجد کیس کی سماعت کی لہذا نہیں اصولی طور پراس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ ان کے علاوہ بینچ میں شامل جسٹس ایم جاوید بٹر نے بھی ان مقدمات کی سماعت کی ہے اس لیے انہیں بھی اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جسٹس فقیر محمد کھوکھر ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں نہیں بیٹھیں گے تو وہ بھی اس بینچ میں نہیں ہوں گے۔

جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا جس میں کہا گیا ہو کہ شدت پسندوں کو رہا کیا جائے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران مختصر حکم نامے جاری کیے ہوں گے تاہم وہ سارے حقائق تفصیلی فیصلے میں لکھ سکتے ہیں جس پر جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ شارٹ آرڈر بھی فیصلہ ہوتا ہے۔

جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ جج اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو دن سے ان درخواستوں کی سماعت کر رہے ہیں لہذا انہیں اس بینچ میں بیٹھنا چاہیے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹس کے جن ججوں نے فیصلے دیئے ہیں تو کیا انہیں بھی عدالت میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

ملک قیوم نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ ججوں کا اپنا ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار ٹکا اقبال محمد خان کے وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی لگانے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے اور آرمی چیف یہ ترمیم نہیں کرسکتا اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کو معطل کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں تو اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال اتنی خراب نہیں تھی جس کو بنیاد بنا کر ملک میں ایمرجنسی لگائی جاتی۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی

ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس جاوید بٹر، جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس موسی کے لغاری، جسٹس قائم جان، جسٹس اعجاز یوسف، جسٹس ضیاء پرویز اور جسٹس محمد اختر شبیر شامل ہیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کے بعد اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بی بی سی کو بتایا اگر یہ تین جج اس بینچ میں نہیں بیٹھتے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان ججوں پر دباو نہیں ڈالیں گے کہ وہ اسی بینچ میں بیٹھیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان ججوں کے اس بینچ میں نہ بیٹھنے سے ان درخواستوں کی سماعت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ان درخواستوں کی سماعت شیڈول کے مطابق ہو گی۔

اسی بارے میں
پی سی او چیلنج، درخواست واپس
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد