BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درخواستیں فرینڈلی فائر:جسٹس کھوکھر

سپریم کورٹ کا فیصلہ بدھ تک متوقع ہے
پاکستان میں ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم نامے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والی نئی تشکیل شدہ سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ درخواستیں ’فرینڈلی فائر‘ ہیں۔

یہ ریمارکس انہوں نے درخواست گزار ٹکا اقبال محمد خان کے وکیل عرفان قادر کے دلائل کے دوران دیے۔ ان درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں فل کورٹ کر رہا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں دہشت گردی کے واقعات اور عدلیہ کی حکومتی امور میں مداخلت کی وجہ سے ایمرجنسی لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کے پاس کوئی قانونی یا آئینی اختیار نہیں ہے کہ وہ ملک میں ایمرجنسی لگائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایمرجنسی لگانے کی جو وجوہات آئین میں درج ہیں وہ اس ایمرجنسی میں شامل نہیں۔ بینچ کے سربراہ عبدالحمید ڈوگر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ عبوری آئینی حکم نامے میں جب آئین معطل ہوتا ہے تو پھر صدر کیسے ماورائے آئین کام کر سکتا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف سمیت کسی کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق معطل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق ان حالات میں معطل ہو سکتے ہیں جب عدالت انہیں اس کی اجازت دے۔

بینچ میں شامل جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی میں بنیادی انسانی حقوق معطل نہیں ہوئے صرف وہ حقوق معطل ہوئے ہیں جن کا ذکر آئین میں آیا ہے۔

عرفان قادر نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ظفر علی شاہ کیس کے فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے اور عدالت کو ان حقائق کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت عدالتی اختیارات محدود نہیں کیے جا سکتے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال اتنی خراب نہیں تھی کہ ایمرجنسی لگائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قبائلی علاقوں اور سوات میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے استفسار کیا کہ یہ علاقے پاکستان کا حصہ نہیں۔
درخواست گزار کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے درخواستوں کی سماعت جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی۔

ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس جاوید بٹر، جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس موسی کے لغاری، جسٹس قائم جان، جسٹس اعجاز یوسف، جسٹس ضیاء پرویز اور جسٹس محمد اختر شبیر شامل ہیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کے بعد اٹارنی جنرل ملک قیوم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملکی حالات کی نوعیت ایسی ہو تو آرمی چیف بھی ایمرجنسی لگا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ایک ماورائے آئین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے بعد جو بنیادی انسانی حقوق معطل ہوئے ہیں اس میں عدالت کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارشل لاء اور ایمرجنسی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ مارشل لاء میں سول انتظامیہ فوج کے تابع ہوتی ہے جبکہ ان حالات میں حکومت سول انتظامیہ کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں پر فیصلہ بدھ تک متوقع ہے جس کے بعد صدر کی اہلیت کے بارے میں درخواستوں کی سماعت شروع ہوگی۔

صدر مشرفاگلے اڑتالیس گھنٹے
نگران حکومت، اسمبلیوں کی تحلیل متوقع
دباؤ بڑھ رہا ہے
صدر مشرف پربین الاقوامی دباؤ میں اضافہ
مختلف اور متنازعہ
71 کے بعد پہلی اسمبلی جو مدت پوری کر گئی
پاکستانایمرجنسی بارہواں دن
عوام با مقابل انتظامیہ کا بارہواں دن
بھٹو، مشرف’گریجویٹ‘اسمبلی
قومی اسمبلی کی مدت ختم،رات بارہ بجے تحلیل
بھٹو، مشرفمفاہمت کو خطرہ
بینظیر اور جنرل مشرف میں بڑھتی مخاصمت
پشاور ہائی کورٹ کے ’چیف جسٹس‘ طارق پرویز’حلف لینا غیر آئینی‘
سرحد کے برطرف شدہ چیف جسٹس کا موقف
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد