BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسمبلی جو مدت پوری کر گئی

قومی اسمبلی(فائل فوٹو)
قومی اسمبلی کو پندرہ نومبر کوتحلیل کر دیا جائے: جنرل مشرف
جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی میں قومی اسمبلی انیس سو اکہتر کے بعد پہلی اسمبلی ہے جس نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کی ہے۔ لیکن کئی ناقدین کے قریب اس کی حیثیت نمائشی یا ربڑ سٹمپ سے زیادہ نہیں ہے۔

پہلی مرتبہ گریجویشن کی بنیاد پر وجود میں آنے والی یہ اسمبلی بھی کئی مرتبہ سیاسی نزع کے عالم سے گزری، اس پر کڑی تنقید ہوئی لیکن اسے بنانے والے اسے قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ کئی اسے ’مسلسل انکیوبیٹر’ میں رکھی جانے والی اسمبلی بھی قرار دیتے ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دس جنوری انیس سو ستتر کو اسمبلیاں چار سال آٹھ ماہ اور چھبیس دن پورے کرنے کے بعد تحلیل کر دی تھیں۔

صرف آئینی مدت مکمل کرنا ہی اس اسمبلی کا اعزاز نہیں رہا بلکہ اس کے ناقدین کے مطابق اسے دنیا کے اس پہلے ایوان کا اعزاز بھی حاصل ہے جس نے ایک فوجی کو بطور صدر ایک نہیں دو مرتبہ منتخب کیا اور اس کے حمایت یافتہ اشخاص تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے۔

تین سو بیالیس اراکین کے اس ایوان کی کارکردگی کے بارے میں سینٹر فار سوک ایجوکیشن کے ظفر اللہ خان سے میں نے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ محض دن پورے کرنا کافی نہیں۔

’میں صرف تین باتوں کا ذکر کرتا ہوں جو روشن خیالی کے تصور کے لیے انتہائی ضروری تھیں۔ تعلیمی پالیسی جس پر کبھی بحث نہیں ہوئی۔ خارجہ پالیسی جو بنائی کہیں اور گئی اور اس پر بحث سے بھی اجتناب کیا گیا۔ قانون سازی صرف صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے ہوئی۔‘

پانچ سال میں کیا کچھ ہوا
News image
ایوان میں مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں سے متعلق اراکین پارلیمنٹ نے چوالیس ہزار نو سو انہتر سوالات کے جوابات حکومت سے مانگے۔ ان سوالات میں سے سولہ ہزار تین سو ستائیس سوالات کو جوابات دینے کے لیے منظور کیا گیا جس میں سے نو ہزار چھ سو انیس سوالات کے جوابات ایوان میں تحریری اور زبانی طور پر دیئے گئے۔ سات ہزار ایک سو چھہتر ایسے سوالات تھے جن کو جوابات کے لیے منظور کیا گیا تھا لیکن ان کے جوابات حکومت نے اراکین پارلیمنٹ کو نہیں دیے۔ آٹھ ہزار سات سو ستر سوالات کو حکومت نے اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے متعلقہ وزارتوں نے اراکین پارلیمنٹ کے ان سوالات کے جوابات نہیں دیے۔
قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط کے مطابق اراکین پارلیمنٹ نے قوائد نمبر ستاسی کے تحت تین سو تحریکیں قومی اسمبلی میں پیش کیں جن میں چالیس تحریکوں کو بحث کے لیے منظور کیا گیا اور صرف سترہ تحریکوں پر بحث ہو سکی۔
اہم امور سے متعلق تین ہزار پچھتر توجہ دلاؤ نوٹس اراکین نے جمع کرائے جس میں سے بائیس توجہ دلاؤ نوٹسز کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں بھجوایا گیا۔
اراکین کے استحقاق سے متعلق چھ سو پچھتر تحریک استحقاق جمع کرائی گئیں جن میں سے ایک سو چار تحریک استحقاق متعلقہ قائمہ کمیٹی میں بھجوائی گئیں۔
اہم قومی امور سے متعلق تحریک التواء دو ہزار سات سو باسٹھ جمع کرائی گئیں جن میں سے صرف ایک سو تیس تحریک التواء پر بحث ہو سکی۔
ایوان نے مختلف امور پر باسٹھ قراردادوں کو پاس کیا۔
حکومت کی جانب سے ایوان میں ایک سو ستاسی بل اور آرڈیننس پیش کیے گئے جن میں سے پچاس بلوں کو پاس کیا گیا۔ ایک سو اٹھائیس بل زیرالتواء ہیں جبکہ دس بلوں کو واپس لے لیا گیا۔

ظفر اللہ کا موقف تھا کہ اس ایوان کی نمائشی حیثیت زیادہ رہی اور اس نے عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں دیا۔

پانچ سال میں اس قومی اسمبلی نے صرف پچاس بل پاس کیے جو بعد میں باقاعدہ ایکٹ بنے۔ ایوان نے مختلف امور پر باسٹھ قراردادوں کو پاس کیا جن میں آخری قرار داد ہنگامی حالت کے نفاذ کی توثیق تھی۔

اگر اپوزیشن کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں دو سو چھتیس بل پیش کیے گئے لیکن منظور صرف ایک ہی ہوا۔ قائد حزب اختلاف بھی ایوان کے وجود آنے کے اٹھارہ ماہ بعد مقرر ہوا۔

ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ جسے سرکاری اپوزیشن کا نام دیا گیا اس کا سترہویں آئینی ترمیم کو بھی منظور کرنے میں کردار رہا اور باوردی صدر کے انتخاب میں بھی ان کا ہاتھ رہا۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ اگر حکومت کارکردگی دکھا رہی ہوتی تو اس پر حزب اختلاف کی نظر بھی دکھائی دیتی۔

’جتنی حکومتی کارکردگی مایوس کن تھی اسی طرح اپوزیشن کا کردار بھی مایوس کن رہا۔‘

ایوان کے اجلاسوں میں وزراء کی عدم دستیابی اور کورم کی کمی کا مسئلہ بھی اکثر درپیش رہا۔ وزیر اعظم کی موجودگی بھی توقع سے کم رہی۔

واضح رہے کہ آئینی طور پر اسمبلی نے پانچ سال تو پورے کرلیے لیکن قوائد کے مطابق آخری سال میں اجلاسوں کی مقررہ معیاد پوری کرنے میں ناکام رہی۔ اسمبلی کا ایک سال میں ایک سو تیس دن کے لیے اجلاس منعقد ہونا ضروری ہے۔ موجودہ اسمبلی کو یہ شرط پوری کرنے کے لیے باون مزید اجلاس طلب کرنا ضروری تھے۔

یہی واحد ضابطہ نہیں جو پورا نہیں ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے ایوان کے قیام کے چودہ ماہ بعد حزب اختلاف کے شدید ہنگامے میں خطاب کیا لیکن اس کے بعد سے یہ آئینی تقاضا اسے ’غیرمہذب ایوان‘ کہتے ہوئے پورا نہیں کیا۔

اسمبلی کی طرح اس کے سپیکر چوہدری امیر حسین بھی ایک غیرمعمولی ریکارڈ کے حامل رہے ہیں۔ ان کے خلاف حزب اختلاف کی دو عدم اعتماد کی قرار دادیں پیش ہوئی لیکن دونوں ناکام رہیں۔

عام شہریوں کے خیال میں یہ اسمبلی ایک شخص کے گرد گھوم رہی تھی۔ اسلام آباد کے ڈاکٹر اسلم راہی کہتے ہیں کہ اگر صدر چاہتے تو یہ اسمبلی پانچ کیا دس برس بھی چل سکتی تھی۔ وہ اسمبلی کی کارکردگی سے بھی کوئی زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

اسمبلی کے آخری برسوں میں حزب اختلاف میں ’میں دوں کہ نہ دوں’ کے مخمصے میں مبتلا رہی۔ ماسوائے پیپلز پارٹی دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے اسے وقت سے قبل ہی خیرباد کہہ دیا۔

سپیکر چوہدری امیر حسین کے مطابق اسمبلی کی کاکردگی میں حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین کا کردار قابل ستائش ہے۔ ’تمام تر تناؤ اور تلخیوں کے باوجود ایوان نے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا۔‘

ان تمام کمزوریوں کے باوجود حکومت اسے ملکی تاریخ کی بہترین قومی اسمبلی قرار دیتی ہے۔

ملک کی بارہویں قومی اسمبلی کو ماضی کے ایوانوں سے کئی اعتبار سے جہاں مختلف قرار دیا جاسکتا ہے وہیں اسے متنازعہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا۔

رینجرزہر طرف خاکی وردی
ایمرجنسی کے بعد اسلام آباد کا حال
اے پی سی کی تجویز
’سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے‘
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
احتجاجمظاہرے، احتجاج
ایمرجنسی کے خلاف مظاہرے جاری
اسی بارے میں
صدر اخبارات پر چھائے رہے
21 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد