BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گریجویٹ‘اسمبلی کی معیاد ختم

مشرف
صدر مشرف نے قومی اسمبلی سے خطاب کے بعد اسے ’غیر مہذب‘ قرار دیا تھا
پاکستان کی قومی اسمبلی نےملکی تاریخ میں پہلی بار اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کر لی ہے، رات بارہ بجے اسمبلی از خود تحلیل ہوگی اور جمعہ کو نگران وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ حلف اٹھائیں گے۔

وزیراعظم شوکت عزیز نےجمعرات کو وفاقی کابینہ کا الوداعی اجلاس بلایا جس میں اپنے وزراء کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ٹیم ورک کی ایک اچھی روایت قائم کی ہے۔

شوکت عزیز نے بعد میں صدر جنرل پرویز مشرف سے الوداعی ملاقات بھی کی۔ صدر نے ان کی خدمات کو سراہا اور آئندہ انتخابات میں ان کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔شوکت عزیز کو تینوں مسلح افواج کے دستوں نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

شیخ رشید احمد پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نگران کابینہ انتہائی مختصر ہوگی اور ان کا دعویٰ ہے کہ نگران وزیراعظم ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو ہوں گے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت تو مکمل کی ہے لیکن ایسا کچھ اس وقت ہوا جب آئین معطل ہے، ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے اور ذرائع ابلاغ زیر عتاب ہیں۔

تین سو باون اراکین پر مشتمل پہلی گریجویٹ اسمبلی جس کی مدت مکمل ہونے کا کریڈٹ جنرل پرویز مشرف لے رہے ہیں یہ وہ ہی اسمبلی ہے جسے انہوں نے خود ایک غیر مہذب بھی قرار دیا تھا۔

اس اسمبلی میں جتنی بار کورم ٹوٹے وہ بھی پارلیمانی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ بنا۔ اس ایوان کو کبھی مقدس تو کبھی مچھلی مارکیٹ بھی کہا جاتا رہا۔اس اسمبلی کی پانچ سالہ مدت میں تین وزیراعظم تبدیل ہوئے۔

آج جہاں اسمبلی کی مدت ختم ہوگئی وہاں خفیہ اداروں کی برملا کوششوں سے ’جرنیلی جمہوریت‘ کے نئے برانڈ کے عین تقاضوں کےمطابق وجود میں آنے والی مسلم لیگ (ق) اور ان کی اتحادیوں کی حکومت نے بھی اپنی مدت مکمل کر لی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کسی بھی وقت صدر جنرل پرویز مشرف نگران حکومت کا اعلان کر سکتے ہیں اور ان کے کئی حامی اپنی قسمت کھلنے کے منتظر ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں ایک درجن سے زائد ممکنہ امیدواروں کے نام لیے جا رہے ہیں۔

لیکن پاکستان جیسے ممالک میں شاہ کے وفاداروں کی فہرست طویل ہوا کرتی ہے اس لیے اندازہ لگانا ذرا مشکل ہو جاتا ہے کہ نگران وزیراعظم کی ہما کس کے سر بیٹھتی ہے۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی ہٹائی جائے: بش
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد