مشرف، بینظیر: راستے جدا جدا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے درمیان مفاہمت کی پینگیں بڑھنے کے بعد فریقین کے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کو پہلے تو سب نورا کُشتی قرار دے رہے تھے لیکن اب صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ بدھ کی صبح بیشتر اخبارات میں شائع ہونے والے نصف صفحے کے رنگین اشتہار پڑھنے کے بعد تو اب یقین ہو چلا ہے کہ جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو میں سنجیدہ اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور دونوں مفاہمت کے پودے کو روندتے ہوئے ایک دوسرے کی مخالف سمت چل پڑے ہیں۔ حکمران مسلم لیگ کے جاری کردہ اس اشتہار کے ذریعے بینظیر بھٹو سے منسوب ایک خط کا عکس بمعہ اردو ترجمہ شائع کیا گیا ہے جو کہ مسلم لیگ کے بقول بینظیر بھٹو نے امریکی سینیٹر گال بریتھ کو چوبیس ستمبر انیس سو نوے کو مدد کے لیے لکھا تھا۔ متنازعہ خط کو پیپلز پارٹی نےمسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خط جعلی ہے، گال بریتھ کے نام کی سپیلنگ غلط (گیل بریتھ) لکھی ہے، وہ سینیٹر نہیں بلکہ سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے سینئر مشیر تھے اور یہ خط بینظیر بھٹو کی کردار کشی کے لیے لکھا گیا تھا۔
امریکی غیر سرکاری ادارہ ’این ڈی آئی‘ پاکستان میں انتخابات کو شفاف بنانے، جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔اس ادارے کے دو مشنز نے پاکستان میں انتخابات سے قبل جائزہ لے کر اپنی جو سفارشات دی ہیں ان میں سب سے زیادہ زور انٹیلیجنس اداروں خصوصاً |آئی ایس آئی کے انتخابات میں کردار ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ متنازعہ خط سے بظاہر لگتا ہے کہ حکمران مسلم لیگ نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ایک طرف بینظیر بھٹو کو ہدف بنایا ہے تو دوسری طرف ’این ڈی آئی‘ کی ساکھ کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلم لیگ کے نام سے اشتہارات کی اشاعت جنرل پرویز مشرف کی پیشگی اجازت کے بغیر ناممکن ہے اس لیے بینظیر بھٹو اور صدر مشرف کے درمیان اختلافات کی خلیج آئندہ دنوں مزید بڑھے گی اور اس کا نتیجہ کسی ایک شخصیت کے سیاسی مستتقبل کے خاتمے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ ہوں یا ملکی میڈیا اکثر بینظیر بھٹو کے مشرف مخالف بیانات کو سیاسی کھپت سے تعبیر کر رہے تھے لیکن بینظیر بھٹو کی جانب سے صدر مشرف کے مستعفی ہونے کے مطالبے اور حکومت کے شائع کرائے گئے اشتہارات کے بعد اب ان کی رائے بھی بدل رہی ہے۔
بینظیر بھٹو نے اس بارے میں کھل کر کھیلنے کا فیصلہ دس نومبر کو صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کیا۔اس ملاقات میں شریک سینٹر برائے سوک ایجوکیشن پاکستان نامی ادارے کے سربراہ ظفراللہ خان نے بتایا کہ تمام شرکاء نے محترمہ پر واضح کردیا تھا کہ مزاحمت کی علامت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، عدلیہ اور میڈیا ہے اور جب تک وہ اس بارے میں واضح موقف اختیار نہیں کریں گی ان پر لوگ اعتماد نہیں کریں گے۔ اگر دیکھا جائے تو بینظیر بھٹو کی میڈیا پر حکومتی پابندیوں کے خلاف صحافیوں سے اظہار ہمدردی اور چیف جسٹس افتخار چودھری سے ملاقات کی کوشش دس نومبر کے سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے فوری بعد کی گئی ہیں۔ اکثر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ بینظیر بھٹو ہوں یا صدر جنرل پرویز مشرف دونوں کو تھپکی امریکہ کی ہی ہے اور ایک کو عوام تو دوسرے کو فوج کی طاقت پر ناز ہے۔ امریکہ کو بھی پتہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی شطرنج کے کھیل میں جو مہرہ بھی جیتے گا وہی اس کا سکندر ہوگا۔ لیکن اس سارے تماشے میں امریکہ جو پہلے پاکستانی فوج کو دائیں بازو کی قوتوں کے اتحاد سے نکال کر جو ترقی پسند اور روشن خیال طاقتوں کا اتحادی بنانے کا خواہاں تھا اب بظاہر لگتا ہے کہ انہیں ایسا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ فوج کی فطری اتحادی دائیں بازو والی طاقتیں ہی ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کی قابل بھروسہ اور آزمائے ہوئے فریق ہیں۔ویسے بھی اب پاکستان کے حالات وہ نہیں جب فوج کے حق میں ترانے لکھے اور گائے جاتے تھے بلکہ اب تو ’اے وطن کے سجیلے جرنیلو یہ سارے رقبے تمہارے لیے ہیں‘ جیسے گیت عام ہوں تو فوج بائیں بازو کی بدتمیز فورسز کے ساتھ کیسے اتحاد کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی ہٹائی جائے: بش06 November, 2007 | پاکستان صدر جنرل پرویز مشرف چھوٹے ہو کر کیا بنیں گے؟02 October, 2007 | پاکستان ’سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت‘21 October, 2007 | پاکستان ’سیاست فوج کے لیے شجرِ ممنوعہ‘23 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||