BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 November, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف، بینظیر: راستے جدا جدا؟

بھٹو، مشرف
بینظیر بھٹو کو پارٹی کے رہنماؤں نے عدلیہ کی حمایت اور مشرف کی مخالفت کا مشورہ دیا ہے
صدر جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے درمیان مفاہمت کی پینگیں بڑھنے کے بعد فریقین کے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کو پہلے تو سب نورا کُشتی قرار دے رہے تھے لیکن اب صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔

بدھ کی صبح بیشتر اخبارات میں شائع ہونے والے نصف صفحے کے رنگین اشتہار پڑھنے کے بعد تو اب یقین ہو چلا ہے کہ جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو میں سنجیدہ اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور دونوں مفاہمت کے پودے کو روندتے ہوئے ایک دوسرے کی مخالف سمت چل پڑے ہیں۔

حکمران مسلم لیگ کے جاری کردہ اس اشتہار کے ذریعے بینظیر بھٹو سے منسوب ایک خط کا عکس بمعہ اردو ترجمہ شائع کیا گیا ہے جو کہ مسلم لیگ کے بقول بینظیر بھٹو نے امریکی سینیٹر گال بریتھ کو چوبیس ستمبر انیس سو نوے کو مدد کے لیے لکھا تھا۔

متنازعہ خط کو پیپلز پارٹی نےمسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خط جعلی ہے، گال بریتھ کے نام کی سپیلنگ غلط (گیل بریتھ) لکھی ہے، وہ سینیٹر نہیں بلکہ سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے سینئر مشیر تھے اور یہ خط بینظیر بھٹو کی کردار کشی کے لیے لکھا گیا تھا۔

بھٹو کو مشورے
 پیپلز پارٹی کےبعض رہنماؤں نے بینظیر بھٹو کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جنرل مشرف کو تنقید کا نشانہ بنائے اور عدلیہ کی حمایت کیے بغیر عوام کی ہمدردی اور دیگر سیاسی جماعتوں پر پیپلز پارٹی غلبہ حاصل نہیں کرسکتیں۔
پیپلز پارٹی کی وضاحت سے قطع نظر اگر خط کی مندرجات اور دیگر زاویوں سے دیکھا جائے تو بھی اس کے مستند ہونے کے بارے میں کافی شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر خط میں جو گال بریتھ کا پتہ لکھا گیا ہے وہ نیشنل ڈیمو کریٹک انسٹی ٹیوٹ (این ڈی آئی) کا ہے۔

امریکی غیر سرکاری ادارہ ’این ڈی آئی‘ پاکستان میں انتخابات کو شفاف بنانے، جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔اس ادارے کے دو مشنز نے پاکستان میں انتخابات سے قبل جائزہ لے کر اپنی جو سفارشات دی ہیں ان میں سب سے زیادہ زور انٹیلیجنس اداروں خصوصاً |آئی ایس آئی کے انتخابات میں کردار ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

متنازعہ خط سے بظاہر لگتا ہے کہ حکمران مسلم لیگ نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ایک طرف بینظیر بھٹو کو ہدف بنایا ہے تو دوسری طرف ’این ڈی آئی‘ کی ساکھ کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

ظاہر ہے کہ مسلم لیگ کے نام سے اشتہارات کی اشاعت جنرل پرویز مشرف کی پیشگی اجازت کے بغیر ناممکن ہے اس لیے بینظیر بھٹو اور صدر مشرف کے درمیان اختلافات کی خلیج آئندہ دنوں مزید بڑھے گی اور اس کا نتیجہ کسی ایک شخصیت کے سیاسی مستتقبل کے خاتمے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ ہوں یا ملکی میڈیا اکثر بینظیر بھٹو کے مشرف مخالف بیانات کو سیاسی کھپت سے تعبیر کر رہے تھے لیکن بینظیر بھٹو کی جانب سے صدر مشرف کے مستعفی ہونے کے مطالبے اور حکومت کے شائع کرائے گئے اشتہارات کے بعد اب ان کی رائے بھی بدل رہی ہے۔

بینظیر بھٹو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے مشورہ دیا تھا کہ عدلیہ کی بحالی اور جنرل پرویز مشرف کے مستعفیٰ ہونے کی جب تک وہ بات نہیں کریں گی اس وقت تک عوام کی ہمدردی اور دیگر سیاسی جماعتوں پر پیپلز پارٹی غلبہ حاصل نہیں کرسکتی۔ لیکن اس کے باوجود بھی بینظیر بھٹو کافی احتیاط سے کام لے رہی تھیں۔

بینظیر بھٹو نے اس بارے میں کھل کر کھیلنے کا فیصلہ دس نومبر کو صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کیا۔اس ملاقات میں شریک سینٹر برائے سوک ایجوکیشن پاکستان نامی ادارے کے سربراہ ظفراللہ خان نے بتایا کہ تمام شرکاء نے محترمہ پر واضح کردیا تھا کہ مزاحمت کی علامت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، عدلیہ اور میڈیا ہے اور جب تک وہ اس بارے میں واضح موقف اختیار نہیں کریں گی ان پر لوگ اعتماد نہیں کریں گے۔

اگر دیکھا جائے تو بینظیر بھٹو کی میڈیا پر حکومتی پابندیوں کے خلاف صحافیوں سے اظہار ہمدردی اور چیف جسٹس افتخار چودھری سے ملاقات کی کوشش دس نومبر کے سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے فوری بعد کی گئی ہیں۔

اکثر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ بینظیر بھٹو ہوں یا صدر جنرل پرویز مشرف دونوں کو تھپکی امریکہ کی ہی ہے اور ایک کو عوام تو دوسرے کو فوج کی طاقت پر ناز ہے۔ امریکہ کو بھی پتہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی شطرنج کے کھیل میں جو مہرہ بھی جیتے گا وہی اس کا سکندر ہوگا۔

لیکن اس سارے تماشے میں امریکہ جو پہلے پاکستانی فوج کو دائیں بازو کی قوتوں کے اتحاد سے نکال کر جو ترقی پسند اور روشن خیال طاقتوں کا اتحادی بنانے کا خواہاں تھا اب بظاہر لگتا ہے کہ انہیں ایسا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ فوج کی فطری اتحادی دائیں بازو والی طاقتیں ہی ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کی قابل بھروسہ اور آزمائے ہوئے فریق ہیں۔ویسے بھی اب پاکستان کے حالات وہ نہیں جب فوج کے حق میں ترانے لکھے اور گائے جاتے تھے بلکہ اب تو ’اے وطن کے سجیلے جرنیلو یہ سارے رقبے تمہارے لیے ہیں‘ جیسے گیت عام ہوں تو فوج بائیں بازو کی بدتمیز فورسز کے ساتھ کیسے اتحاد کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی ہٹائی جائے: بش
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد