BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 November, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اشتہار کردار کشی مہم کا حصہ ہے‘

مسلم لیگی اشتہار
حکمران مسلم لیگ کے نام سے یہ نصف صفحے کا رنگین اشتہار مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے
پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف حکمران مسلم لیگ کی طرف سے اخبار میں شائع کرائے گئے اشتہار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پارٹی کی چیئرپرسن کی کردار کشی کی مہم کا حصہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اشتہار میں بینظیر بھٹو سے منسوب ایک جعلی خط کی اشاعت ’ضیاالحق کی جہادی باقیات کی دم توڑتی ہوئی کوششوں کا حصہ ہیں۔‘

حکمران مسلم لیگ کے نام سے یہ نصف صفحے کا رنگین اشتہار مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں بینظیر بھٹو سے منسوب ایک خط کا عکس بمع ترجمہ ’یہ تحریر پاکستان کے کسی غیر ملکی دشمن کی نہیں‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔

اشتہار میں کہا گیا ہے کہ یہ تحریر ’ان محترمہ کی ہے جو آج پھر پاکستان کی وزارت اعظمیٰ کے خواب دیکھ رہی ہیں۔‘ اشتہار کے مطابق انیس سو نوے میں انہوں نے ایک امریکی سینیٹر کو خط میں لکھا ہے کہ پاکستان کی دفاعی اور اقتصادی امداد بند کی جائے، عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ پاکستان کا معاشی طور پر ناطقہ بند کردیں، ایف سولہ اور اسکے پرزوں کی فراہمی روک دی جائے، بھارتی وزیراعظم وی پی سنگھ کومجبور کریں کہ وہ اپنی فوجوں کو سرحدوں پر لاکر پاکستانی فوج کو مصروف کریں تاکہ فوج بینظیر کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ اشتہار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اگر راجیو گاندھی زندہ ہوتے تو میری راہیں کتنی آسان ہوتیں۔‘

مسلم لیگ کے اس اشتہار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بینظیر نے امریکی سینیٹر پیٹرگال بریتھ کے نام اس خط میں لکھا تھا کہ ’آپ یاد رکھیں میں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام روک دیا تھا‘۔ اس متنازعہ خط پر چوبیس ستمبر انیس سو نوے کی تاریخ اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیی ٹیوٹ (این ڈی آئی) کا پتہ درج ہے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ جعلی خط ایجنسیز کے عناصروں نے بینظیر کے نام سے لکھا تھا۔ ان کے مطابق بینظیر بھٹو نے کبھی ’مسز بینظیر بھٹو‘ کے عنوان والا لیٹر ہیڈ استعمال نہیں کیا۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق خط میں جان بوجھ کر امریکی سینیٹر کا نام گال بریتھ کے بجائےگیل بریتھ لکھا گیا ہے تاکہ وہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوی نہ کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گال بریتھ انیس سو اناسی سے انیس سو ترانوے تک امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے مشیر تھے اور این ڈی آئی میں نہیں تھے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان کے بقول بینظیر بھٹو سے منسوب خط میں گرامر کی کئی غلطیاں ہیں جوکہ ان کی لیڈر کے دفتر سے جاری ہونے والے خط میں نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے کس طرح بینکوں سے رقوم لوٹ کر اسلامی جمہوری اتحاد بنایا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ جعلی خط کی بیس برس بعد اشاعت ماضی کی طرح انتخابات میں دھاندلی کو مستقبل میں دہرائے جانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی قابل اعتماد معلومات کے مطابق یہ اشتہارات کمرشل ریٹ پر وزارت اطلاعات کے سرکاری فنڈز سے جاری کیے گئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ اس جعلی خط کے بارے میں پیپلز پارٹی مزید ثبوت بھی سامنے لائے گی۔ جس سے یہ واضح ہوگا کہ کس نے یہ خط کس کے کہنے پر لکھا۔

کون کون پکڑا گیا
ایمرجنسی کے متاثرین کی رجسٹریشن کا آغاز
ایمرجنسی کا دسواں دنایمرجنسی دسواں دن
بینظیر نظربند، مختلف شہروں میں گرفتاریاں
’ہاں میں ڈر گیا‘
’اظہار رائے ٹھیک سہی مگر بچے چھوٹے ہیں‘
پاکستانی ٹی وی چینل صحافی اور مالکان
پابندیوں پر صحافیوں اور مالکان کا ردعمل مختلف
اسی بارے میں
صدر مشرف پر دباؤ بڑھ رہا ہے
13 November, 2007 | پاکستان
زیر حراست افراد کی رجسٹریشن
13 November, 2007 | پاکستان
دو نئے ججوں نے حلف اٹھا لیا
13 November, 2007 | پاکستان
بینظیر کے بیان کا خیرمقدم
14 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد