’صحافی ناخوش میڈیا مالکان راضی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا پر پابندیوں کے خلاف جہاں ایک جانب صحافی برادری کا احتجاج جاری ہے تو دوسری جانب نیوز چینلوں کے مالکان حکومت کی شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے کم و بیش تیار ہو گئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف پی ایف یو جے یعنی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے بی بی سی سے منگل کو باتیں کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضابطۂ اخلاق بنانے میں صحافیوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا لیکن نیوز ٹی وی چینلوں کی تنظیم پی بی اے یعنی پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے پہلے بھی حکومت کے دباؤ میں آ کر رضاکارانہ طور پر ایک ضابطۂ اخلاق تیار کرکے حکومت کو دیا تھا اور اسی میں ترامیم کرنے کے بعد اب حکومت ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ترمیمی ضابطۂ اخلاق کو تسلیم کیا جائے اور چند ٹی وی چینل کے مالکان نے اس پر دستخط بھی کردیے ہیں۔ واضح رہے کہ نیوز چینلوں پر پابندی کے بعد سے اب تک پاکستان میں چند نیوز چینلوں کی نشریات پر سے پابندی ہٹالی گئی ہے جبکہ چار بڑے ملکی نیوز چینل اور غیرملکی چینل جن میں بی بی سی، سی این این بھی شامل ہیں اب تک بند ہیں۔ مظہر عباس نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے کہ ٹی وی چینلوں کے مالکان ترمیمی ضابطۂ اخلاق کو تسلیم کرلیں کیونکہ ’ان کے اپنے کچھ مفادات ہیں لیکن ہمارے تحفظات اپنی جگہ ہیں۔ مسئلہ صرف ضابطۂ اخلاق کا ہی نہیں بلکہ ترمیمی آرڈیننس جن کے ذریعے میڈیا کی آزادی پر پابندیاں لگائی گئی ہیں ان کو بھی واپس لیا جائے۔‘ دوسری جانب پی بی اے کے سیکرٹری جنرل ارشد زبیری نے کہا ہے کہ پی بی اے کے اب تک حکومت سے مذاکرات نہیں ہوئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے ممبروں سے کہا ہے کہ وہ بند چینلوں کو کھلوانے کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ پی بی اے کے صدر میر شکیل الرحمٰن نے اس موضوع پر بات کرنے سے احتراز کیا۔
اے ٹی جے یعنی ایسوسی ایشن آف ٹی وی جرنلسٹس کے صدر جاوید صبا نے کہا کہ اگر ٹی وی نیوز چینلوں کے مالکان حکومت کے مجوزہ ضابطۂ اخلاق کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر دستخط کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ انکے اور صحافیوں کے درمیان حکومت ایک خلیج پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ مالکان اپنی نظر میں کاروباری مفادات رکھتے ہیں کیونکہ وہ اس شعبے کو ایک صنعت کو طور پر دیکھتے ہیں جبکہ صحافی ان پابندیوں کو شاید قبول نہیں کرپائیں گے۔ جاوید صبا نے کہا کہ ٹی وی چینلوں کے مالکان نے یہ عندیہ دیا ہے کہ ٹی وی چینل بند ہونے کی وجہ سے ان کو لاکھوں روپے کا نقصان ہورہا ہے اور اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملازمین کی چھانٹی کرنا پڑے اور اس طرح کئی صحافیوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ مظہر عباس نے کہا کہ جس طرح حکومت دباؤ ڈال کر ٹی وی مالکان سے ضابطۂ اخلاق پر دستخط کرانے کی کوشش کررہی ہے تو نہ صرف یہ طریقۂ کار غلط ہے بلکہ یہ قابلِ عمل بھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس میں ترامیم بھی واپس لی جائیں جنہیں انہوں نے کالے قانون سے تشبیہ دی۔ ادھر منگل کو حکومت نے ڈش انٹینا، ڈیجیٹل رسیورز، ڈی کوڈرز، ایل این بی، ایل این اے سمیت دیگر آلات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔ |
اسی بارے میں نشریات کے بعد اب ڈش بھی بند13 November, 2007 | پاکستان کراچی: ڈش انٹینا ڈی کوڈر ضبط07 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||