بیورو رپورٹ بی بی سی اردد ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کیے جانے کے بعد ڈش انٹینا کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے |
پاکستان میں مقامی نیوز چینلز پر پابندی کے بعد حکومت نے ملک کے اندر ڈش انٹینا، ڈیجیٹل رسیورز، ڈی کوڈرز، ایل این بی، ایل این اے سمیت دیگر آلات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس سے قبل تین نومبر کو پاکستان میں ایمرجنسی لگائے جانے کے ساتھ ہی ایک درجن کے قریب نجی شعبہ میں چلنے والے نیوز چینلز کی نشریات بند کر دی گئی تھیں۔ تاہم یہ چند چینلز ڈش کے ذریعے پاکستان میں دیکھے جا رہے ہیں اور نشریات پر پابندی کے بعد پاکستان میں ڈش انٹینا اور اس میں استعمال ہونے والے دیگر آلات کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ حکومت نے ملک کے بڑے شہروں میں سیٹلائٹ ڈش انٹینا کی فروخت پر پہلے ہی پابندی عائد کر دی تھی اور ان شہروں میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے سیٹلائٹ ڈش انٹینا کی فروخت کو روکنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی فروخت نہ صرف جاری تھی بلکہ اس کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ پاکستان کی عوام نجی نیوز چینلز کے ذریعے ملک کی صورتحال سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں۔ منگل کو پاکستان کی وزارت تجارت کی طرف سے درآمدی پالیسی آرڈر دو ہزار سات میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت ایسے تمام آلات کی درآمد پر جو سیٹلائٹ سگنلز وصول کرتے ہیں، پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اب صرف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی اجازت سے یہ آلات درآمد کیے جا سکتے ہیں۔ جن آلات کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سیٹلائٹ ڈش، ڈیکوڈرز، ڈیجیٹل و سادہ رسیورز، ڈیجیٹل سیٹلائٹ نیوز گیدرنگ (ڈی ایس این جی)، انکوڈر، ماڈولیٹر، ہائی پاور ایمپلی فائر، براڈبینڈ گلوبل ایکسس نیٹ ورک، ایل این اے، ایل این بی، سیٹلائٹ ٹرانسمیشن کی سہولت رکھنے والے کیمرے اور ڈیجیٹل ہیڈ وغیرہ شامل ہیں۔
|