رضا ہمدانی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | زیر حراست افراد کو جیلوں میں ملنا آئی سی آر سی کے دائرہ کار میں ہے |
بین الااقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے تین نومبر کی ایمرجنسی کے بعد حراست میں لیے گئے افراد کی رجسٹریشن کا کام شروع کر دیا ہے اور تنظیم اس معاملے کو حکومت کے ساتھ اٹھائے گی۔ یہ بات آئی سی آر سی کی کمیونیکیشن افسر ستارہ جبین نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ زیر حراست افراد کے خاندانوں نے ان سے رابطہ کر کے تمام تفصیلات فراہم کردیں ہیں اور آئی سی آر سی ان افراد کی رجسٹریشن کر کے اس معاملے کو حکومت کے سامنے رکھی گی۔ یاد رہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں وکلاء، سول سوسائٹی کے ارکان اور سیاسی کارکن شامل ہیں۔ تصادم یا غیر معمولی حالات میں حراست میں لیے گئے افراد کو جیلوں میں ملنا آئی سی آر سی کے دائرہ کار میں ہے۔ ان دوروں کا ایک مقصد تو جیل میں مہیا کی گئی سہولیات کا جائزہ لینا ہے اور دوسرا حراست میں لیے گئے افراد کا انکے خاندانوں سے رابطہ کروانا ہے۔ ستارہ جبین نے کہا کہ آئی سی آر سی پاکستان میں اسّی کی دہائی سے موجود ہے اور رواں سال کے شروع میں تنظیم کو پاکستان کی جیلوں کا دورہ کرنے کی اجازت ملی تھی۔ آئی سی آر سی نے لاہور اور کراچی سنٹرل جیلوں کا دورہ کیا جبکہ پشاور سنٹرل جیل اور کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل کے دورے پر حکومت سے بات چیت چل رہی ہے۔ آئی سی آر سی کی کی کمیونیکیشن افسر نے کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں پاکستان میں سیاسی اسیروں سے ملاقات کی اجازت مل جائے۔
|