BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی: صدر اور وفاق کو نوٹس

 سپریم کورٹ
سرکاری میڈیا کے علاوہ کسی کو سپریم کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے
سپریم کورٹ نے ملک میں ایمرجنسی کے خلاف دائر درخواست پر صدر، چیف آف آرمی سٹاف اور وفاق کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ درخواست پیپلز پارٹی کے صوبہ پنجاب کے سابق سیکرٹری اطلاعات اقبال ٹکا نے دائر کی ہے۔

درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے کی۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق درخواست گزار نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ آرمی چیف کے پاس کوئی آئینی یا قانونی اختیار نہیں ہے کہ وہ ملک میں ایمرجنسی لگائیں۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف بنیادی انسانی حقوق معطل نہیں کرسکتا۔

درخواست گزار نے مزید کہا کہ آرمی چیف صدر کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں دیتا اور پی سی او ظفر علی شاہ کیس سے مطابقت نہیں رکھتا۔

وطن پارٹی کے ظفراللہ خان نے بھی ایمرجنسی کے خلاف ایک درخواست دی ہے اور عدالت نے ان درخواستوں کو یکجا کرکے اس کی سماعت پندرہ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق اس درخواست کی سماعت کی کوریج کے لیے سپریم کورٹ کی انتظامیہ نےصرف سرکاری میڈیا کو سپریم کورٹ میں آنے کی اجازت دی ہے جبکہ آزاد میڈیا کو ابھی تک سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے کاز لسٹ جاری کی ہے جس کے مطابق رواں ہفتے میں سپریم کورٹ چھبیس مقدمات کی سماعت کرے گی اور ان مقدمات کی سماعت کے لیے تین بینچ تشکیل دیئےگئے ہیں۔

پہلے بینچ میں نئے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس محمد موسی لغاری شامل ہیں۔ دوسرے بینچ میں جسٹس محمد نواز عباسی ، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس محمد قائم جان شامل ہیں جبکہ تیسرا بینچ جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس چوہدری اعجاز یوسف پر مشتمل ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والی اس کاز لسٹ میں عام نوعیت کے مقدمات شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق ان مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں متعدد وکلاء کو پاسز جاری کیے گئے ہیں اور ان کے علاوہ کسی کو بھی سپریم کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

پاکستان میں ایمرجنسی کےنفاذ کے نویں روز بھی شاہراہ دستور پر، جہاں سپریم کورٹ کے علاوہ دیگر اہم عمارتیں بھی ہیں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد