BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 November, 2007, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمرجنسی میں انتخابات نامنظور‘

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد مولانا فضل الرحمان فائل فوٹو
دیگر پارٹیوں کے باہمی مشورے سے مشترکہ لائحہ عمل بنا یا جائے گا:قاضی حسین
متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کی بحالی،ایمرجنسی اور پی سی او کے خاتمے کے بغیر انتخابات ڈھونگ ہوں گے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے جنرل مشرف کی پریس کانفرنس کو آئین اور عدلیہ کی کھلی توہین قرار دیتے ہوئے ان کے تازہ اعلانات کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جنرل مشرف کی جانب سے مارشل لاء کی موجودگی میں انتخابات کا اعلان قوم کے ساتھ سنگین مذاق اور عالمی برادری کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اے پی ڈی ایم اور دیگر پارٹیوں کے باہمی مشورے سے مشترکہ لائحہ عمل بنا کر عوامی جدوجہد کے ذریعے آمریت کا خاتمہ کیا جائے۔

مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور جمیعت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جمہوری عمل کی بحالی کے لیے تمام سیاسی اور مذہبی قوتوں کا مکمل اتفاق ہے اور وہ خود اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کا آغاز کررہے ہیں۔

 اس صورت حال میں انتخابات ملک کا مسلہ نہیں ہیں بلکہ جب تک ملک میں تین نومبرسے پہلے جیسی صورتحال بحال نہیں ہوگی اس وقت تک انتخابات کا انعقاد بے معنی ہے
اکرم شاہ

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز میاں نواز شریف نے ان سے فون پر رابطہ کرکے قومی مجلس مشاورت کا اجلاس ایم ایم اے کی بجائے اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کروانے کی تجویز دی تھی انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی تجویز مجلس عمل نے قبول کر لی ہے۔

مجلس عمل نے چودہ نومبر کو اے پی سی بلا نے کا اعلان کیا تھا لیکن جے یو آئی کے ترجمان نے کہاہے اب اس کی نئی تاریخ دی جائے گی۔

بلوچستان
بلوچستان میں زیادہ ترقوم پرست اورجمہوری جماعتوں نے بھی ملک میں انتخابات کرانے اورنگران حکومتیں قائم کرنے کے اعلان کومسترد کیا ہے۔

ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ ملک میں سب سے پہلے ایمرجنسی ختم کرکے عدلیہ کوتین نومبر سے قبل کی حالت میں لایا جائے اور ایک قومی عبوری حکومت قائم کرکے فوج اقتدار چھوڑدے۔

پختونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اکرم شاہ نے کہا کہ جنرل پرویزمشرف نے تین نومبرکوملک میں ایمرجنسی کے نام ایک اور مارشل لاء لگائی جس کے تحت انہوں نے آئین کوایک بار پھر معطل کرکے، عدالتوں پرحملہ کرکے سپریم کورٹ کے ججوں کوحراست میں لے لیا جہاں ان کی متنازعہ صدارت کامقدمہ زیرسماعت تھا۔

قوم پرست اورجمہوری جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ایمرجنسی ختم کرکے عدلیہ کوتین نومبر سے قبل کی حالت میں لایا جائے

اس صورت حال میں انتخابات ملک کا مسلہ نہیں ہیں بلکہ جب تک ملک میں تین نومبرسے پہلے جیسی صورتحال بحال نہیں ہوگی اس وقت تک انتخابات کا انعقاد بے معنی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام صد ر ڈاکڑجہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ایمرجنسی کے ہوتے ہوئے ملک میں صاف اورشفاف انتخابات نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتریہ ہوگا کہ سب سے پہلے جنرل پرویز مشرف اپنے وعدے کے مطابق اپنی وردی اتاریں پھرتمام پارٹیوں کے مشورے سے ایک آزاد اورخودمختارالیکشن کمیشن مقر کریں۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی سکریٹری اطلاعات وکلچر ڈاکڑاسحاق بلوچ نے کہا کہ جنرل مشرف نے صرف مسلم لیگ ق کوجتوانے کے لیے یہ اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب قوم پرست اورجمہوری جماعتوں پرسیاسی جلسے کرنے کی پابندی ہے جس کی وجہ سے ملک سنگین صورتحال سے دوچارہے

انہوں نے کہا کہ فی الفورآئین بحال کیا جائے، پی سی او کوختم کیاجائےاور میڈیا کوآزادکیا جائے اس کے بعد ہی یہ یقین ہوگا کہ ملک میں شفاف انتخابات ہورہے ہیں۔

اسی بارے میں
صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی
18 September, 2007 | پاکستان
قاضی حسین منصورہ میں نظر بند
06 November, 2007 | پاکستان
مجلسِ عمل کی پی پی پی کو دعوت
08 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد