مجلسِ عمل کی پی پی پی کو دعوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے چودہ نومبرکو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں پیپلز پارٹی اور سول سوسائیٹی کی تنظیموں کو بھی دعوت دی جا رہی ہے۔ مجلس عمل کے قائدین کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلانے کے لیے بینظیر نے انہیں پیغام بھجوایا ہے اور اس بارے میں اہم پیش رفت آل پاٹیز کانفرنس کا انعقاد ہے۔ آل پارٹیز بلانے کا فیصلہ متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے ایک ایسے اجلاس میں کیا گیا جس کے انعقاد میں پولیس نے بار بار رکاوٹ ڈالی۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی قومی مجلس مشاورت چودہ نومبر کو اسلام آباد میں ہوگی جس میں حکومتی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ حکومت فروری میں عام انتخابات کروانے کا وعدہ پوراکرے گی تو مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت پر عوامی دباؤ برقرار رکھنا ہوگا ورنہ اس کے وعدوں کے پورا ہونے کی امید نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے ایمرجنسی کو باضابطہ طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ عدلیہ کو بحال اور میڈیا پر سے پابندی ختم کی جائے۔ مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں پندرہ نومبر کو ملک گیر یوم احتجاج منایا جائے گا۔ پندرہ نومبر پاکستان کے کالعدم آئین کے تحت پرویز مشرف کی صدرات کے حالیہ دور کا آخری دن ہے۔ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اپنی نظر بندی کی وجہ سے اجلاس میں صدارت نہ کرسکے البتہ فیصلوں کی منظور ان سے ٹیلی فون پر لے لی گئی۔ قاضی حسین احمد منصورہ میں نظر بند ہیں اور مجلس عمل نے اپنی سپریم کونسل کا اجلاس اسلام آباد سے لاہوراس لیے منتقل کیا تاکہ یہ اجلاس قاضی حسین احمد کی زیر صدرات ہو سکے۔ پولیس نے ایمرجنسی کے روز سے منصورہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور جمعرات کو سپریم کونسل کے اجلاس کے لیے مولانا فضل الرحمان سمیت ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے سربراہ منصورہ پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔
پولیس نے میڈیا سے بھی بدسلوکی کی اور انہیں منصورہ میں داخل نہ ہونے دیا تاہم ذرائع ابلاغ کے چند نمائندے منصورہ میں داخل ہوگئے۔امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے صحافیوں کوبتایا کہ حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے کے لیے پیپلز پارٹی نے ان سے رابط کیا ہے۔ جے یو آئی کے ترجمان مولانا امجد خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اے پی سی میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھجوائی جارہی ہے۔ بینظیر بھٹو نے ماضی میں اے پی ڈی ایم کا حصہ بننے سے اس لیے انکار کیا تھا کیونکہ ان کے بقول وہ چند مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانا نہیں چاہتی تھیں۔ جے یوآئی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کل سینٹر رضا ربانی اور خورشید شاہ نے دوبار ان کی جماعت کے امیر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور انہیں بینظیر کا پیغام پہنچایا۔ ان کے بقول وہ پیغام مشترکہ تحریک چلانے کی تجویز پر مبنی تھا۔ جماعت اسلامی کے امیر اور مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ مسلم لیگ نون کے جلاوطن سربراہ نواز شریف سے دو بار ٹیلی فون پر ان کا رابطہ ہوا ہے اور انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ جدوجہد کی حمائت کی ہے۔ مبصرین کا کہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ نے اپوزیشن کی ان جماعتوں کو بھی حکومت سے دور جانے پر مجبور کر دیا ہے جو کسی حد تک مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتی تھیں۔اب حزب مخالف کی جماعتیں بظاہر متحدہ اپوزیشن کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں جو مشرف کے آٹھ سالہ دور میں اب تک ممکن نہیں ہوسکا۔ |
اسی بارے میں سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان بان کی مون پر پاکستان ناراض07 November, 2007 | پاکستان چیف الیکشن کمشنر بھی سرگرم07 November, 2007 | پاکستان سندھ میں ہڑتال، وکلاء کی گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان08 November, 2007 | پاکستان میڈیا پابندیاں، احتجاج کا اعلان07 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||