BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 November, 2007, 23:57 GMT 04:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مجلسِ عمل کی پی پی پی کو دعوت

جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کی پٹائی
ایم ایم اے قائدین کا خیال ہے کہ حکومت پر عوامی دباؤ برقرار رکھنا چاہیئے
پاکستان میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے چودہ نومبرکو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں پیپلز پارٹی اور سول سوسائیٹی کی تنظیموں کو بھی دعوت دی جا رہی ہے۔

مجلس عمل کے قائدین کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلانے کے لیے بینظیر نے انہیں پیغام بھجوایا ہے اور اس بارے میں اہم پیش رفت آل پاٹیز کانفرنس کا انعقاد ہے۔ آل پارٹیز بلانے کا فیصلہ متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے ایک ایسے اجلاس میں کیا گیا جس کے انعقاد میں پولیس نے بار بار رکاوٹ ڈالی۔

مولانا فضل الرحمان
اپوزیشن کی قومی مجلس مشاورت چودہ نومبر کو اسلام آباد میں ہوگی

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی قومی مجلس مشاورت چودہ نومبر کو اسلام آباد میں ہوگی جس میں حکومتی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ حکومت فروری میں عام انتخابات کروانے کا وعدہ پوراکرے گی تو مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت پر عوامی دباؤ برقرار رکھنا ہوگا ورنہ اس کے وعدوں کے پورا ہونے کی امید نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے ایمرجنسی کو باضابطہ طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ عدلیہ کو بحال اور میڈیا پر سے پابندی ختم کی جائے۔

مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں پندرہ نومبر کو ملک گیر یوم احتجاج منایا جائے گا۔ پندرہ نومبر پاکستان کے کالعدم آئین کے تحت پرویز مشرف کی صدرات کے حالیہ دور کا آخری دن ہے۔

مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اپنی نظر بندی کی وجہ سے اجلاس میں صدارت نہ کرسکے البتہ فیصلوں کی منظور ان سے ٹیلی فون پر لے لی گئی۔

قاضی حسین احمد منصورہ میں نظر بند ہیں اور مجلس عمل نے اپنی سپریم کونسل کا اجلاس اسلام آباد سے لاہوراس لیے منتقل کیا تاکہ یہ اجلاس قاضی حسین احمد کی زیر صدرات ہو سکے۔

پولیس نے ایمرجنسی کے روز سے منصورہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور جمعرات کو سپریم کونسل کے اجلاس کے لیے مولانا فضل الرحمان سمیت ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے سربراہ منصورہ پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔

بینظیر بھٹو
ایم ایم کے مطابق مشترکہ تحریک چلانے کے لیے بینظیر نے انہیں پیغام بھجوایا ہے

پولیس نے میڈیا سے بھی بدسلوکی کی اور انہیں منصورہ میں داخل نہ ہونے دیا تاہم ذرائع ابلاغ کے چند نمائندے منصورہ میں داخل ہوگئے۔امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے صحافیوں کوبتایا کہ حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے کے لیے پیپلز پارٹی نے ان سے رابط کیا ہے۔

جے یو آئی کے ترجمان مولانا امجد خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اے پی سی میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھجوائی جارہی ہے۔ بینظیر بھٹو نے ماضی میں اے پی ڈی ایم کا حصہ بننے سے اس لیے انکار کیا تھا کیونکہ ان کے بقول وہ چند مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانا نہیں چاہتی تھیں۔ جے یوآئی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کل سینٹر رضا ربانی اور خورشید شاہ نے دوبار ان کی جماعت کے امیر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور انہیں بینظیر کا پیغام پہنچایا۔ ان کے بقول وہ پیغام مشترکہ تحریک چلانے کی تجویز پر مبنی تھا۔

جماعت اسلامی کے امیر اور مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ مسلم لیگ نون کے جلاوطن سربراہ نواز شریف سے دو بار ٹیلی فون پر ان کا رابطہ ہوا ہے اور انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ جدوجہد کی حمائت کی ہے۔

مبصرین کا کہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ نے اپوزیشن کی ان جماعتوں کو بھی حکومت سے دور جانے پر مجبور کر دیا ہے جو کسی حد تک مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتی تھیں۔اب حزب مخالف کی جماعتیں بظاہر متحدہ اپوزیشن کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں جو مشرف کے آٹھ سالہ دور میں اب تک ممکن نہیں ہوسکا۔

’میں آج بھی جج ہوں‘
جسٹس افتخار بی بی سی سے خصوصی انٹرویو
چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی حکومت کی’ آفرز‘
پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر کئی پیشکشیں
ناہید خانپی پی پی کا مظاہرہ
پارلیمان کے سامنے جیالوں کے نعرے
قاضی فاروقعدالتی بحران
چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق بھی سرگرم
 احتجاجاحتجاج تھما نہیں
ایمرجنسی کے خلاف طلبا، وکلاء سراپا احتجاج
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
اسی بارے میں
سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری
08 November, 2007 | پاکستان
بان کی مون پر پاکستان ناراض
07 November, 2007 | پاکستان
چیف الیکشن کمشنر بھی سرگرم
07 November, 2007 | پاکستان
جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان
08 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد