انکاری ججوں کے شام و سحر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں اسلام آباد کی نسبت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں پر قدرے کم پابندیاں نظر آتی ہیں۔ گو ہر انکاری جج کے گھر کے باہر ابھی تک پولیس کا پہرہ ہے لیکن اگر آپ بے دھڑک گیٹ سے اندر داخل ہو جائیں تو وہ روک ٹوک کرنے کی بجائے کہیں اور دیکھنے لگتے ہیں۔ اور آجکل کے ماحول میں لگتا یوں ہے کہ وہ دن بھر ایسا ہی کرتے رہتے ہیں۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے گھر دن بھر آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ سول سوسائٹی کے نمائندے ہیں جو جج صاحبان کی حوصلہ افزائی اور ان کے اصولی موقف پر اپنی حمایت کا اظہار کرنے آتے ہیں۔ ججوں کے گھر کے باہر پھولوں اور پتیوں کا ایک ڈھیر نظر آتا ہے جو مبارکبادی کے یہ قافلے اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ گھر کے اندر بھی چارسو پھول ہی پھول نظر آتے ہیں اور گھر والوں کے چہرے انہیں دیکھ کر یوں روشن ہوتے ہیں جیسے وہ پھول نہیں ہیرے جواہرات ہوں۔ گفتگو بھی نہایت دلچسپ رہتی ہے۔ جب بھی کوئی نیا مہمان آتا ہے، جج صاحب اس کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں اپنے کیے پر فخر ہے اور ان کا اپنے فیصلے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
بہت سے مہمان ابھی تک یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے آخر یہ قدم اٹھایا ہی کیوں۔ انکاری جج کی اس معاملے میں واضح رائے ہے کہ حکومت آخر دم تک یہ کوشش کرتی رہی کہ اسے سپریم کورٹ کے ارادوں کا اندازہ ہو جائے اور جب اسے یقین ہو گیا کہ صدارتی حلف کے کیس میں فیصلہ ان کے خلاف آ سکتا ہے تو صدر مشرف نے خود کو بچانے کے عدالتیں ہی توڑ ڈالیں۔ زیادہ تر انکاری ججوں کی رائے میں صدر جنرل پرویز مشرف شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ سارا تنازعہ پی سی او کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا اور اکا دکا ججوں کے سوا سب نیا حلف اٹھانے کو تیار ہو جائیں گے۔ لیکن ان ججوں کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کسی کو بھی ایک فوجی حکمران کے ہاتھوں اپنی بے عزتی قبول نہ تھی۔ ایسے ہی ایک جج نے مجھے کہا کہ اتنی عزت تو پاکستان کی عدلیہ کو ساٹھ سال نہیں ملی ہو گی جتنی صدر جنرل پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کو رد کر کے ججوں نے چند دن میں کما لی۔ اسی جج نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ وہ تو کئی سال لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر گزار چکے ہیں لیکن اصل قربانی تو ان کے ان ساتھیوں نے دی ہے جو ابھی نئے نئے جج بنے تھے اور ابھی نوکری کے پندرہ سال سے بھی زائد باقی تھے۔
ایسی باتیں سن کر مہمانوں اور میزبانوں کے چہرے فخر سے تمتما اٹھتے ہیں۔ پھر ہلکی پھلکی گفتگو شروع ہوتی ہے جن میں ان ججوں کے شرما جانے کا بھی ذکر ہوتا ہے جن کے انکار کے بعد سول سوسائٹی کی خوبرو خواتین نے کھلے عام بے ساختگی کے ساتھ ان کے گالوں پر بوسے دیے۔ پھر خدشات کا ذکر ہوتا ہے۔ ان ججوں کی بات چلتی ہے جن پر ابھی بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا دباؤ ہے۔ سول سوسائٹی کے اراکین ان کے گھر جا ان کا حوصلہ بڑھانے کا عہد کرتے ہیں۔ میں نے ایک جج سے جب اس دباؤ کی نوعیت کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ سب سے مشکل اپنوں سے نبٹنا ہوتا جو یہ سمجھانے آتے ہیں کہ حکومت سے ٹکر لے کر کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ کیوں اپنی زندگی خراب کرتے ہو، مشرف آج ہے، کل نہیں ہو گا، گھر بیٹھ کر تو تم ان سینکڑوں لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتے جن کا مستقبل تمہارے فیصلوں سے جڑا ہے۔ یا پھر یہ کہ تم تو ایک بہترین جج ہو لیکن تمہاری جگہ لینے والے یا تو کرپٹ ہونگے یا پھر حکومت کے ٹٹو۔ اس لیے ضروری ہے کے تم ایک فوجی آمریت کے ارادوں کے خلاف اپنی لڑائی عدالت کے اندر بیٹھ کر لڑو نہ کہ باہر رہ کر۔ گو ان میں سے زیادہ تر جج ابھی تک اپنا موقف براہ راست میڈیا پر پیش کرنے سے ہچکچا رہے ہیں لیکن ان کے ارادوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے ان کو دیے گئے مشوروں سے لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب انکاری جج ایک گروہ کی صورت میں میڈیا کے سامنے آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ |
اسی بارے میں ’اپنے حصہ کا چراغ روشن کر دیا ہے‘04 November, 2007 | پاکستان ’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘08 November, 2007 | پاکستان ججوں کی بڑی تعدادنےحلف نہیں اٹھایا03 November, 2007 | پاکستان معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘07 November, 2007 | پاکستان ججز کالونی کے نہ گفتہ بہ حالات 07 November, 2007 | پاکستان ’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘06 November, 2007 | پاکستان اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے05 November, 2007 | پاکستان سندھ: پی سی او کے تحت بارہ ججز04 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||