BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی:’جلد بازی کی گئی‘

سپریم کورٹ
سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے گرد سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے منگل کو ملک میں ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع کی تو وطن پارٹی سے بیرسٹر ظفراللہ خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسطرح سٹیل مِل کی نجکاری اور برطرف کئے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کرنے میں جلد بازی کی گئی اسی طرح ملک میں ایمرجنسی لگانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا ایمرجنسی میں آئین معطل نہیں کیا جا سکتا۔ جس پر بینچ کے سربراہ عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ انیس سو نناوے میں ملک میں ایمرجنسی لگانے کے بعد آئین معطل کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مارشل لاء میں بھی عدالت نے مقدمات کی سماعت کی جس طرح ظفر علی شاہ کیس میں عدالت نے مقدمے کی سماعت کی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ایمرجنسی پاکستان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔

چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ملک کے دو ستون ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت کریں اور آئین میں اس کا کوئی حل بھی نہ دیا گیا ہو تو پھر ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ اس پر بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس کا حل موجود ہے۔ چیف جسٹس نے دوبارہ استفسار کیا کہ اگر اسمبلیاں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں اور ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لاء لگ جائے تو پھر اس صورت حال کا کیا حل ہے درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پھر عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ اعلی عدلیہ کے کچھ ججوں نے اپنے اختیارت سے تجاوز کیا ہے۔

بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ انیس سو نناوے میں جنرل پرویز مشرف نے بطورِ آرمی چیف ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ لیکن اس وقت وہ آرمی چیف کے ساتھ صدر بھی ہیں اور صدر آئین کا محافظ ہوتا ہے۔

بینچ میں شامل چوہدری اعجاز یوسف نے کہا کہ ایمرجنسی آئین سے ماورا اقدام ہے لیکن ظفر علی شاہ کیس میں اسے جائز قرار دیا گیا تھا۔ بیرسٹر ظفراللہ نے کہا اسوقت ملک میں معاشی حالت بہت خراب تھی۔ وزیرِ اعظم اور عدلیہ آمنے سامنے تھے لیکن اب معاشی صورتحال اب بہتر ہے ۔

انہوں نے کہا آئین کی دفعہ دو سو پینتالیں صدر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ جہاں چاہیں فوج کو بلا سکتے ہیں تو پھر پی سی او کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا آرمی ایکٹ میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت عام شہریوں کے مقدمات بھی زیرِ سماعت لائے جاسکتے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جنرل مشرف نے ملک میں عبوری آئینی حکم نامے کا نفاذ بطور سویلین صدر کے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کا اقدام صرف قومی مفاہمتی آرڈیننس کو کور دینے کے لیے کیا گیا ہے۔اور جس وقت ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی اُس وقت ایک سیاسی پارٹی کی قیادت ملک سے باہر تھی جس پر بینچ کے سربراہ عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ اس آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

بیرسٹر ظفراللہ کے دلائل جاری تھے کہ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے ظفر علی شاہ کیس کے فیصلے میں اصول وضح کردئیے گئے تھے تاہم اس درخواست پر فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ظفر علی شاہ کیس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر حالات ایسے ہوں جس کا حل آئین میں موجود نہ ہو تو آرمی چیف ملکی مفاد میں ماورائے آئین قدام کرسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر ریاست کے تین ستون ایک دوسرے کے آئینی اختیارات میں مداخلت کریں تو پھر اس کا حل آئین کے باہر ہی ملتا ہے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کردی۔

ان درخواستوں کی سماعت کے بعد اٹارنی جنرل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ملک میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ مجبوری میں کیا گیا انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ان درخواستوں پر فیصلہ بدھ تک آجائے گا جبکہ صدر کی اہلیت کے بارے میں درخواستوں پر فیصلہ جمعرات کو متوقع ہے۔جس کے بعد جنرل مشرف بطور سویلین صدر اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدلیہ صدر کی اہلیت کے بارے میں درخواستوں پر حکم امتناعی جاری نہ کرتی تو آج جنرل مشرف بطور سویلین صدر اپنے فرائض ادا کر رہے ہوتے۔

اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی تک بھوک ہڑتال
19 November, 2007 | پاکستان
مشرف اہلیت: درخواستیں خارج
19 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد