BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 November, 2007, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کی اپیل ’ملک بچاؤتحریک‘

 کوئٹہ میں وکلاء احتجاج(فائل فوٹو)
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک بھر سے سینکڑوں وکلاء گرفتار ہوئے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے قائم مقام صدر نے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جائے جس میں مشرف ہٹاؤ ملک بچاؤ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا جائے۔

بلوچستان میں سنیچر کو پولیس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دو سو سے زیادہ کارکنوں اور مقامی قائدین کو گرفتار کیا ہے۔ جیو نیوز کے بھی کارکنوں کو مظاہرہ کرنے کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا۔

پی پی پی گرفتاریاں
 صوبے بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایمر جنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان مظاہروں کے دوران ان کے دو سو سے زیادہ کارکن اور مقامی قائدین گرفتار ہوئے ہیں۔
پی پی پی رہنما

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے قائم قام صدر سخی سلطان ایڈووکیٹ نے، جن کا تعلق بلوچستان سے ہے، ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ایمر جنسی اور پی سی او کے نفاذ اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے خلاف وکلاء کی تحریک جاری رہے گی۔

انھوں نے فوج کے سیاسی کردار کو ختم کرنے، آئین کی بحالی اور ذرائع ابلاغ سے پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سخی سلطان ایڈووکیٹ نے یہ اخباری کانفرنس پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر لشکری رئیسانی کی رہائش گاہ میں کی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ پریس کلب میں اخباری کانفرنس کرنے سے انھیں گرفتاری کا خطرہ تھا اور اس وقت وہ باہر رہ کر تحریک چلانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کر کے اس میں ایک نکاتی ایجنڈہ ’مشرف ہٹاؤ، ملک بچاؤ‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔

پولیس کی لاعلمی
 نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مقامی کارکنوں کو پولیس نے مظاہرہ کرنے کے بعد جناح روڈ سے گرفتار کر لیا ہے۔ جیو نیوز کے چھ کارکنوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے بعد وہ واپس اپنے دفتر جا رہے تھے کہ پولیس نے انھیں جناح روڈ سے گرفتار کر لیا ہے لیکن پولیس حکام نے اس گرفتاری کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی لشکری رئیسانی نے صحافیوں کو بتایا کہ صوبے بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایمر جنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان مظاہروں کے دوران ان کے دو سو سے زیادہ کارکن اور مقامی قائدین گرفتار ہوئے ہیں۔

جماعت کے قائدین کے مطابق کوئٹہ میں پولیس نے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما علی مدد جتک کے مکان پر چھاپہ مارا ہے اور و ہاں سے تقریباً چھ کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔

کوئٹہ میں پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سریاب روڈ کو ٹائر جلا کر بلک کر دیا تھا جنھیں منتشر کر دیا گیا ہے اور تقریباً پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مقامی کارکنوں کو پولیس نے مظاہرہ کرنے کے بعد جناح روڈ سے گرفتار کر لیا ہے۔ جیو نیوز کے چھ کارکنوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے بعد وہ واپس اپنے دفتر جا رہے تھے کہ پولیس نے انھیں جناح روڈ سے گرفتار کر لیا ہے لیکن پولیس حکام نے اس گرفتاری کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے۔

ڈوگرحلف کا نمبر گیم
انتالیس ججوں نے حلف نہیں لیا 48 نے لے لیا
سپریم کورٹ کے جج(فائل فوٹو)غلامی پر ضمیر بھاری
’عدلیہ کی اکثریت کیلیے ضمیر کی آواز اہم ہے‘
گورنر سرحد گورنر سرحد نے کہا
مغویوں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
اسی بارے میں
سندھ: عدالتوں میں مقدمے خارج
09 November, 2007 | پاکستان
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے
05 November, 2007 | پاکستان
معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘
07 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد