BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 November, 2007, 03:55 GMT 08:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اخباروں میں نواز شریف چھائے رہے

اخبار
نواز شریف کی آمد پر بعض اخبارات نے اداریوں میں جنرل مشرف کے فیصلوں پر نکتہ چینی کی ہے
پیر کی صبح پشاور کے تمام اخبارات پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کی خبر چھائی ہوئی ہے۔

اس خبر کوپشاور سے شائع ہونے والے تمام مقامی اخبارات نے شہ سرخیوں سے شائع کیا ہے اور اس کے ساتھ دو اور تین کالموں میں نواز شریف کی بڑی بڑی تصویریں بھی لگائی گئیں ہیں۔

روزنامہ مشرق میں ہے ’ نواز شریف کا وطن واپسی پر پرتپاک استقبال، سابق وزیراعظم سعودی حکومت کے خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور پہنچے۔‘

اس خبر کے ساتھ اخبار نے سابق وزیراعظم کے مختلف پوزوں میں تین تصاویر بھی لگائی ہوئی ہیں جس میں ایک تصویر میں نواز شریف رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

اسی اخبار میں بے نظیر بھٹو کے ایک بیان کو بھی شائع کیا گیا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ ’ نوازشریف کی وطن واپسی مفاہمتی آرڈنینس کا نتیجہ ہے۔‘

پشاور کا دوسرے بڑے اخبار روزنامہ آج کی شہ سرخی ہے ’ لاہور پہنچنے پر نواز شریف کا والہانہ استقبال، سابق وزیراعظم اپنے بھائی شہباز شریف ، اہلیہ کلثوم نواز اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ پہنچے، لاہور میں جشن کاسماں۔‘

اسی اخبار میں ایک اور خبر میں نواز شریف کہتے ہیں کہ ’ وطن واپسی خفیہ ڈیل یا سودے بازی کا نتیجہ نہیں۔‘

ایک اور مقامی اخبار روزنامہ صبح میں ہے کہ ’ نواز شریف انتخابات میں حصہ نہیں لینگے، شہباز شریف اور کلثوم نواز آج کاغذات نامزدگی دائر کرینگے۔‘

اسی اخبار میں نوازشریف کی واپسی سے متعلق ایک بیان سابق صدر رفیق تارڑ کا بھی شائع کیا گیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’ بطور صدر نوازشریف کی سزائیں ختم کرچکا ہوں، آئینی طورپر کسی بھی حلقے سے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، ڈیل کے تحت واپس نہیں آئے۔‘

نوازشریف کی وطن واپسی پر بعض اخبارات نے مفصل اداریئے بھی لکھے ہیں۔ روزنامہ صبح میں اس سلسلے میں ایک دلچسپ ادرایہ لکھا گیا ہے جس میں اخبار لکھتا ہے۔

’ پہلے جب نواز شریف کو اسلام آباد ائرپورٹ سے سعودی عرب زبردستی بھجوایا گیا تھا تو مشرف حکومت نے کہا تھا کہ وہ دس سال کا معاہدہ کرکے اہل خانہ سمیت گئے ہیں لہذا دس برس سے پہلے یہ لوگ واپس پاکستان نہیں آسکتے۔ اب عوام خود اندازہ کریں کہ نوازشریف کو جلا وطن ہوئے سات برس اور کچھ مہینے ہی گزرے ہیں اور وہ پہلے سے مختلف انداز میں وطن واپس آئے ہیں۔ اب غور کرنے والی بات صرف اتنی سے رہ جاتی ہے کہ ہمارے حکمران اور اپوزیشن رہنما جو کچھ کہتے ہیں یا کرتے ہیں، کیا واقعی وہ ملک و قوم کے مفاد میں ہوتا ہے؟

’امید ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف سول ڈریس میں صدر کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد پوری قوم سے خطاب میں بتائیں گے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ صرف پاکستان بچانے کےلئے کیا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد