BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 09:05 GMT 14:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی،عدلیہ میں تبدیلیاں،میڈیا پر پابندیاں

اسلام آباد
دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہیں اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے

جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک بھر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نئے پی سی او کے تحت چار مزید ججوں نے حلف اٹھا لیا ہے۔ متعدد سینیئر وکلاء اور سیاستدانوں کو نظر بند یا گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سنیچر کی شام عبوری آئینی حکم(PCO) جاری کرتے ہوئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی اور ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ دیگر نیوز ٹیلیویژن چینلز کی نشریات بند کر دی گئیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے مزید چار ججوں نے نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا ہے جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے حلف اٹھانے والے ججوں کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔ حلف اٹھانے والوں میں جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس شیخ حاکم علی، جسٹس سجاد حسین شاہ اور جسٹس سردار اسلم شامل ہیں۔

صدر مشرف نے سنیچر کو رات گئے قوم سے خطاب کیا

جسٹس افتخار چودھری کی برطرفی اور نئے چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے تقرر کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کے پاکستان لاء کمیشن واپس بھیج دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پر سارہ سعید کو سپریم کورٹ کا نیا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ سنیچر کی شب سات رکنی بنچ کی جانب سے ایمرجنسی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سنیچر کوایک حکم جاری کیا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت کی تھی کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔
بنچ نے یہ حکم اعتزاز احسن کی ایک درخواست پر دیا جو انہوں نے جمعہ کو ایمرجنسی یا پی سی او کے ممکنہ نفاذ کے خلاف دائر کی تھی۔ یہ درخواست صدر کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر شدہ درخواست کی سماعت کے دوران دائر کی گئی تھی۔

گرفتاریاں اور نظر بندیاں

اعتزاز احسن گرفتار کیے جانے والے پہلے اہم رہنما تھے
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے پاکستان میں نظر بندیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید ہاشمی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد سمیت متعدد وکلاء اور سیاستدان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لاہور میں جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو پشاور میں ان کی رہائشگاہوں پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری قاہر شاہ، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ اور نائب صدر ہاشم کاکڑ کو بھی نقص امن کے تحت گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔

عالمی مذمت و تشویش

پاکستانی پولیس اہلکار ایمرجنسی کی خبریں پڑھنے میں مصروف ہیں
امریکہ، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد عالمی ممالک نے پاکستان میں ہنگامی حالت کے نفاد کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے موجودہ حالات پر سخت تشویش ہے اور صدر مشرف کو ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نے جنرل مشرف پر زور دیا کہ وہ صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے قبل فوجی سربراہ کا عہدہ چھوڑ دیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق امریکی حکومت صدر مشرف کی جانب سے پاکستان کے لیے علیحدہ جمہوری معیار مقرر کرنے کی بات پر زیادہ خوش نہیں ہے۔

برطانوی وزیرِخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اس صورت حال پر شدید فکرمند ہیں جبکہ نئی دہلی میں بھارتی سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اس پر بھارت کو افسوس ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے جنرل مشرف کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے جبکہ یورپی یونین نےبھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو جلد عوام کی حکمرانی اور جمہوریت کی طرف لوٹنا چاہیے۔

پریس پر پابندیاں
صدر جنرل پرویز مشرف نے پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتب رجسٹریشن آرڈیننس2002ء میں ترمیم کرتے ہوئے پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن (ترمیمی) آرڈیننس 2007ء جاری کیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002ءمیں بعض ترامیم اور بعض شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر بی بی سی اردو سروس کے صبح کے پروگرام جہاں نما کے وقت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اتوار کا ’جہاں نما‘ ایک گھنٹے پر مشتمل ہوگا اور پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے سات بجے تک نشر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے بی بی سی اردو سروس ایک خصوصی پروگرام بھی پیش کرے گی۔

جج(فائل فوٹو)ججوں کا انکار
اعلٰی عدلیہ کے درجنوں ججوں نےحلف نہیں اٹھایا
رینجرزہر طرف خاکی وردی
ایمرجنسی کے بعد اسلام آباد کا حال
نظربندیاں گرفتاریاں
ملک بھر میں گرفتاریوں اور نظربندیاں شروع
سپریم کورٹایمرجنسی کی حیثیت
ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان
جسٹس ڈوگرجسٹس ڈوگر کون؟
جسٹس ڈوگر پییپلز پارٹی کے دور میں جج بنے
اسی بارے میں
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد