BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 09:33 GMT 14:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن

جنرل پرویز مشرف
’حلف برداری کی تقریب کے انعقاد کا کام حکومت کا ہے‘
پاکستان الیکشن کمیشن نے جنرل پرویز مشرف کے صدر منتخب ہونے کے بارے میں باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

اب پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق جنرل پرویز مشرف فوجی عہدہ چھوڑ کر بطور سویلین صدر حلف اٹھائیں گے۔

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جنرل پرویز مشرف کی صدارتی انتخاب میں کامیابی کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن کو بھجوا دیا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کا سرکاری نتیجہ ظاہر کرنا تھا اور ان کے بقول اب حلف برداری کی تقریب کے انعقاد کا کام حکومت کا ہے۔

ادھر صدارتی ترجمان ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل راشد قریشی نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ طریقۂ کار کے مطابق اب کیبنٹ ڈویژن نوٹیفکیشن جاری کرے گی اور غالباً جلد از جلد بھی یہ نوٹیفکیشن پیر کو جاری ہو سکے گا اور اس کے بعد صدر کے حلف کی تاریخ طے کی جائے گی۔

صدر کے وردی سے چھٹکارہ پانے کے بارے سوال کے جواب میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’انہوں نے حلف سے پہلے وردی کے بارے میں کہا ہوا ہے اور یہ حلف سے پہلے ہی ہو گا‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ابھی نوٹیفکیشن نہیں ملا ہے جیسے ہی نوٹیفکیشن ملے گا، اس کے بعد تاریخوں کے بارے میں کچھ کہا جا سکے گا کیونکہ اس کے بعد ہی پہلے چیف آف آرمی سٹاف مشرف سے ٹیک اوور کریں گے‘۔

واضح رہے کہ چھ اکتوبر کے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم اور وکلاء کے نمائندے کے طور پر جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے صدارتی انتخاب کے لیے نامزدگی فارم جمع کرائے تھے۔لیکن چھ اکتوبر کو پولنگ کے روز پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کیا جبکہ صدر جنرل پرویزمشرف جسٹس وجیہہ الدین کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے تھے۔

جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور مخدوم امین فہیم نے صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت اعظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو سرکاری نتائج روکنے کا حکم دیا تھا اور جب جنرل مشرف کی اہلیت کے خلاف مقدمے کی سماعت آخری مرحلے میں پہنچی تو تین نومبر کو جنرل پرویزمشرف نے آئین معطل کرکے ایمرجنسی نافذ کی اور بیشتر ججوں کو گھروں میں نظر بند کر دیا۔

بعد ازاں عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے ججوں نے جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف عدم پیروی کی بنیاد پر آئینی درخواستیں خارج کر دیں اور جنرل پرویز مشرف کو نظریہ ضرورت کے تحت اہل امیدوار قرار دیا۔

صدر مشرف چھوٹے مشرف
صدرجنرل پرویز مشرف چھوٹےہو کرکیا بنیں گے؟
جنرل پرویز مشرفچیف سے صدر تک
جنرل پرویز مشرف: اقتدار کی ٹائم لائن
مشرف’مقبولیت میں کمی‘
’مشرف صرف بیس فیصد لوگوں کے پسندیدہ لیڈر‘
اسی بارے میں
صدارتی انتخاب کے بعد جشن
06 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد