صدر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کریں، سپریم کورٹ کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی بطور صدر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ ادھر سپریم کورٹ کے ایک سات رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم، ججوں کے نئے حلف اور جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے بعد کیے گئے تمام اقدامات کو بھی جائز قرار دے دیا ہے۔ فل بنچ نے جنرل مشرف کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم صدارتی انتخابات میں جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف درخواستوں کو خارج کرنے کے بعد جمعہ کے روز تحریری فیصلے میں دیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ جمعرات کے روز پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف آخری درخواست بھی خارج کر چکی ہے۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور وفاقی حکومت یکم دسمبر دو ہزار سات تک تمام ضروری اقدامات کرنے کے بعد صدارتی انتخابات کا اعلان کریں اور آئین کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کریں۔ عدالت نے ان صدارتی انتخابات کے حوالے سے جاری ہونے والا حکم امتناعی بھی خارج کر دیا ہے۔ یہ حکم امتناعی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والی سابق عدالت کی طرف سے پانچ اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل ملک قیوم ان درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹھارہ ستمبر کو عدالت میں یہ تحریری بیان دے چکے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف دوسری مدت کے لیے بطور صدر حلف لینے سے پہلے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سن دو ہزار سات کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جنرل پرویز مشرف پر نااہلیت کی دفعہ لاگو نہیں ہوتی۔ ان درخواستوں پر باقاعدہ سماعت تین اکتوبر سے شروع ہوئی تھی اور برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں گیارہ رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ اس بینچ نے پانچ اکتوبر کو اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا عمل جاری رکھا جائے تاہم انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان درخواستوں کے فیصلے تک کامیاب ہونے والے امیدوار کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ صدر کی اہلیت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں میں سے صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین، پاکستان لائرز فورم، لیاقت بلوچ، پمز ہسپتال کے ڈاکٹر انوارالحق نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے سامنے اپنی درخواستوں پر دلائل دینے سے انکار کر دیا تھا جس پر عدالت نے یہ درخواستیں عدم پیروی کی بناء پر خارج کر دی تھیں جبکہ پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔ عدالت نے ڈاکٹر ظہور مہدی کی درخواست جمعرات کے روز خارج کر دی تھی۔
دریں اثناء چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ایمرجنسی اور پی سی او کے خلاف ٹکا اقبال اور وطن پارٹی کے ظفراللہ خان کی طرف سے دائر کی جانے والے دو آئینی درخواستوں کو بھی خارج کر دیا۔ ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، دہشت گردی اورخودکش حملوں کے باعث حکومت ملک میں امن وامان قائم کرنے اور شہریوں کو مکمل تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی تھی اور اگر تین نومبر کو ماورائے آئین اقدامات نہ کیے جاتے تو ملک و قوم کو سنگین نتائج دیکھنا پڑتے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تین نومبر کو بالکل ویسے ہی حالات تھے جیسے پانچ جولائی انیس سو ستتر اور بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے میں تھے اور اُس وقت بھی ماورائے آئین اقدام کرنا پڑے تھے۔بینچ نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے علاوہ کراچی میں ایک عوامی ریلی پر بھی حملوں کا زکر کیا جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
عدالت نے کہا کہ بعض عدالتی فیصلوں کی وجہ سے انتظامیہ، مقننہ اور دیگر ادارے غیر موثر ہوگئے تھے اور عدلیہ کے بعض ججوں نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے انتظامی معاملات میں مداخلت کی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگرچہ ملک میں ایمرجنسی قومی مفاد میں لگائی گئی تاہم اسے جلداز جلد ختم کیا جانا چاہیے۔ پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ تمام جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا وہ ان جج نہیں رہے اور نہ ہی وہ کسی طور پر اپنے عہدے پر بحال نہیں ہوسکتے اور نہ ان کے کیس پر ازسرنو کارروائی ہوسکے گی۔ فیصلے کے مطابق برخاست ججوں نے اپنی حد سی تجاوز کیا اور ازخود نوٹس کے نام پر بہت سے انتظامی معاملات میں مداخلت کی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار رہے گا کہ وہ صدر یا آرمی چیف کے کسی بھی اقدام کا جو آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوں اس پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعلی عدالتوں کے ججوں کے خلاف شکایات کی سماعت سپریم جوڈیشل کونسل میں ہی ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||