’ایمرجنسی میں انتخابات سےانتشار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ جو بھی سیاسی جماعت پاکستان میں جمہوریت چاہتی ہے اسے انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے کیونکہ ان انتخابات سے پاکستان میں انتشار اور زیادہ بڑھے گا۔ عمران خان نے اپنی رہائی کے بعد بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ جنرل مشرف کے حامی ہی اس طرح کی دلیل دے رہے ہیں کہ انتخابات میں حصہ نہ لینا ان کو من مانی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ عمران رہائی کے بعد اپنی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو ہر جماعت کہہ رہی ہے کہ یہ انتخابات فراڈ ہوں گے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ کھلی چھٹی نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حزب اختلاف کی ہر جماعت ان انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے تو ان کی ’کوئی ساکھ نہیں رہ جاتی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جرنل مشرف صرف امریکہ کو دکھانے کے لیے انتخابات کروا رہا ہے‘۔ بینظیر بھٹواور مولانا فضل الرحمان سے اختلافات کے بارے میں ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ ’اب تو بینظیر کا سٹینڈ ٹھیک ہے، اور میں امید رکھتا ہوں کہ آگے بھی وہ مستقل طور پر پاکستان میں جو بھی جماعتیں جمہوریت چاہتی ہیں وہ ان کے ساتھ کھڑی ہوں گی‘۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی جمہوریت پسند کسی آمر سے ’شرکت اقتدار‘ کی بات کرتا ہے تو اس کی ساکھ متاثر ہوتی اور یہ دیگر اپوزیشن سے غداری ہوتی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جہاں تک مولانا فضل الرحمان کا تعلق ہے ان سے وہ سترھویں ترمیم کی منظوری میں ان کے کردار کی وجہ سے مایوس ہوئے۔ ’لیکن پھر جب انہوں نے صدارتی انتخابات کے دوران مستعفی ہونے کی تاریخ انتیس سے دو تک بڑھائی اور پھر اسمبلی نہ توڑ کر انہوں نے انتخاب کی ساکھ بنائی، بینظیر نے بھی استعفی نہ دے کر انڈر ہینڈ مدد کر دی جس سے حزب اختلاف کو بہت بڑا نقصان پہنچا‘۔ عمران خان نے کہا کہ اب بینظیر کہہ رہی ہیں کہ تمام جماعتیں یک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھی ہوں جو کہ ہم پہلے سے کہہ رہے تھے لیکن ان کو اعتراض تھا کہ وہاں ایم ایم اے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے تو اب بھی ہے لیکن اب ان کو اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف سیاسی جماتوں کے ایک نکتے پر اکٹھے نہ ہونے سے جمہوریت کے لیے جدوجہد کو نقصان پہنچا ہے۔ عمران خان نے پنجاب یونیورسٹی میں ان کی گرفتاری کے بارے میں ایک سوال جواب میں کہا کہ انہیں جماعت اسلامی کے صدر قاضی حسین احمد سے کوئی شکایت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’ایک ایسے سیاستدان ہیں جن میں میں نے کبھی دوغلا پن نہیں دیکھا، وہ سیددھی بات کرنے والے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ قاضی حسین احمد کو اپنی گرفتاری کے واقعے میں ملوث نہیں سمجھتے۔
جیل جانے کے تجربے کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ ان کے لیے ’قائدِ اعظم کی شخصیت مثالی ہے جو کبھی جیل نہیں گئے تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ دو جیلوں میں گئے جہاں پولیس اور قیدیوں دونوں نے انہیں بہت عزت دی اور شرمندہ بھی تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ’میں نے قانون نہیں توڑا‘۔ انہوں نے کہا اصل مسئلہ ہے سپریم کورٹ کو بچانا اور جب تک عدلیہ بحال نہیں ہوتی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ان کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں ہر سطح پر لوگ شامل ہوئے اور غیر متوقع طو پر ان کی سابقہ اہلیہ اور ان کے خاندان والوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ | اسی بارے میں عمران خان جیل بھیج دیے گئے، ایمرجنسی مخالف مظاہرے جاری14 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی تک بھوک ہڑتال19 November, 2007 | پاکستان عمران کی گرفتاری کے خلاف احتجاج16 November, 2007 | پاکستان عمران ایک مہینے کے لیے جیل میں17 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||